پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے، ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَأَنشَأْنَا: ہم نے پیدا کیا، اگایا
جَنَّاتٍ: باغات، باغیچے
نَخِيلٍ: کھجور کے درخت
أَعْنَابٍ: انگور کے درخت
فَوَاكِهُ: پھل، میوے
تَأْكُلُونَ: تم کھاتے ہو
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنی عظیم قدرت اور رحمت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہم نے اس پانی کے ذریعے جو آسمان سے نازل کیا، تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ یہ صرف دو قسم کے درخت نہیں، بلکہ ان باغات میں تمہارے لیے بے شمار اور متنوع پھل ہیں، جن کی اقسام، اشکال اور رنگ مختلف ہیں۔ جیسے انجیر، انار، سیب اور دیگر میوہ جات۔ یہ سب کچھ اللہ کی رحمت سے پیدا ہوتا ہے، اور تم ان سے کھاتے ہو اور لطف اندوز ہوتے ہو۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے کھجور اور انگور کا خصوصی ذکر فرمایا کیونکہ یہ عرب کے مشہور اور زیادہ پھل تھے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف یہی دو پھل ہیں، بلکہ یہ ذکر بطور مثال ہے، ورنہ باغات میں بے شمار پھل پیدا ہوتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک قطرہ پانی سے کیسے سرسبز باغات پیدا کیے ہیں۔ کیا یہ قدرت کا کمال نہیں؟ جب ہم کسی میٹھے اور رسیلے پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو کیا ہمیں اپنے رب کا شکر ادا نہیں کرنا چاہیے؟ اللہ تعالیٰ نے یہ سب نعمتیں ہمارے لیے پیدا کی ہیں، تاکہ ہم اس کی عبادت کریں اور اس کا شکر بجا لائیں۔ یہ پھل، یہ باغات، یہ نعمتیں سب اللہ کی رحمت کا ثبوت ہیں۔ اگر ہم ان نعمتوں پر غور کریں تو ہمارا ایمان مضبوط ہوگا اور ہم اللہ کے قریب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور تمہارے لئے چارپایوں میں بھی عبرت (اور نشانی) ہے کہ ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔