اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں۔ مگر وہ صاحب کرم ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا حکیم ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فضل: احسان، بخشش
تواب: بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا
حکیم: بڑی حکمت والا، ہر کام مصلحت سے کرنے والا
تفسیر:
اے ایمان والو! اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی، اور یہ بات نہ ہوتی کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور حکیم ہے، تو تم پر وہ عذاب نازل ہوتا جو تم خود اپنے اوپر مانگ رہے تھے۔ جب لعان کے موقع پر کوئی شخص جھوٹی قسم کھا کر اپنی بیوی پر تہمت لگاتا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہتا ہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہے، تو اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے اس معاملے میں نرمی نہ فرماتا اور اپنی حکمت سے یہ آسان راستہ نہ نکالتا، تو جھوٹ بولنے والے پر فوراً عذاب آجاتا اور وہ رسوا ہو جاتا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اس امت پر آسانی فرمائی اور لعان کا قانون وضع کیا، تاکہ میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے نازک مسائل حل ہو سکیں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ بندوں کے گناہوں پر جلدی عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ انہیں توبہ کا موقع دیتا ہے۔ وہ تواب ہے یعنی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، اور حکیم ہے یعنی ہر حکم اور فیصلے میں اس کی گہری مصلحت ہوتی ہے۔
یہ آیت ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت اور کرم کا احساس دلاتی ہے کہ وہ اپنے بندوں پر کیسا مہربان ہے۔ وہ چاہتا تو ہمارے چھوٹے چھوٹے گناہوں پر بھی ہمیں فوراً پکڑ لیتا، لیکن وہ تو رحیم و کریم ہے، ستار العیوب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اس کے فضل و کرم کا شکر ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ وہ ہر حال میں ہمارے ساتھ بھلائی ہی کا معاملہ فرماتا ہے، چاہے ہم اس کے احکام پر عمل کریں یا غلطیوں کا شکار ہو جائیں، بشرطیکہ ہم سچے دل سے توبہ کریں۔
جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔