ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَاتَّقُوا اللَّهَ: اللہ سے ڈرو، اس کے احکام پر عمل کرو اور اس کے عذاب سے بچو۔
- وَأَطِيعُونِ: اور میری اطاعت کرو، جو کچھ میں کہوں اسے مانو۔
تفسیر:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو جب دعوتِ توحید دی تو انہیں دو بنیادی چیزوں کی تلقین کی: تقویٰ اور اطاعتِ رسول۔ تقویٰ کا مطلب ہے اللہ کا خوف دل میں رکھنا، اس کے احکام کی تعمیل کرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی ہے اور اسے اللہ کی رحمت کے قریب کرتی ہے۔
پھر فرمایا: "اور میری اطاعت کرو" یعنی جو پیغام میں تمہیں پہنچا رہا ہوں، اسے قبول کرو۔ اطاعتِ رسول درحقیقت اطاعتِ الٰہی ہے، کیونکہ رسول اللہ کی طرف سے جو کچھ لے کر آتا ہے، وہ وحی الٰہی ہوتی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم واقعی اللہ سے ڈرتے ہو تو پھر میری بات مانو، کیونکہ میں تمہیں اسی اللہ کی طرف بلا رہا ہوں۔
یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک قیمتی سبق ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف زبانی اقرار نہیں، بلکہ عملی زندگی میں اللہ کا خوف اور رسول کی اطاعت ہونی چاہیے۔ جب انسان دل میں اللہ کا ڈر رکھتا ہے تو وہ ہر عمل میں احتیاط کرتا ہے، اور جب وہ رسول کی اطاعت کرتا ہے تو اسے زندگی کے ہر معاملے میں راہنمائی ملتی ہے۔
یاد رکھیں، تقویٰ اور اطاعت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تقویٰ دل کی حالت ہے اور اطاعت اس کا عملی ثبوت۔ جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا، وہ اللہ کے رسول کی پیروی کرے گا، اور جو رسول کی پیروی کرے گا، اس کی زندگی سنور جائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ اور اطاعتِ رسول کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 106-110 — شعراء
ترجمہ — شعراء 108
سورہ شعراء آیت 108 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانوسورہ آیت 108/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 106–110. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








