ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ: میں تم سے اس (تبلیغِ رسالت) کے بدلے کچھ نہیں مانگتا۔
- مِنْ أَجْرٍ: کوئی اجر، معاوضہ یا صلہ۔
- إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ: میرا اجر و ثواب صرف رب العالمین کے ذمے ہے۔
تفسیرِ آیہ:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو جو پیغام دیا، اس میں انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ اس تبلیغِ حق کے عوض اپنی قوم سے کوئی دنیاوی فائدہ یا معاوضہ نہیں چاہتے۔ ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور اپنی قوم کی فلاح تھا۔ وہ فرما رہے ہیں: "میں تم سے اس دعوت و نصیحت پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر و ثواب صرف اللہ رب العالمین کے ذمے ہے، جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔"
یہ وہی اصول ہے جو تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی دعوت میں اپنایا۔ وہ لوگوں سے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں چاہتے تھے، بلکہ ان کی ہدایت اور نجات ان کا اصل مقصد تھا۔ اس طرح انہوں نے اپنی دعوت کو ہر قسم کے شبہات اور الزامات سے پاک کر دیا، تاکہ لوگ ان کی صداقت کو سمجھ سکیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ دین کی دعوت اور تبلیغ ہمیشہ خالص اللہ کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ کسی دنیاوی غرض کے لیے۔ جب انسان اپنی دعوت کو اللہ کے لیے خالص کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی تائید فرماتا ہے اور اسے کامیابی عطا کرتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے اعمال اور دعوت کو خالص اللہ کے لیے بنائیں، کیونکہ اللہ ہی ہے جو ہر عمل کا اجر دینے والا ہے۔ وہ نہ صرف دنیا کا مالک ہے بلکہ آخرت میں بھی اپنے نیک بندوں کو بے حساب اجر عطا فرمائے گا۔ اس لیے ہمیں اپنی نیتوں کو درست رکھنا چاہیے اور صرف اللہ کی رضا کے طالب بننا چاہیے، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
📜 آیت 107-111 — شعراء
ترجمہ — شعراء 109
سورہ شعراء آیت 109 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس کام کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔…سورہ آیت 109/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 107–111. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








