ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَسْأَلُكُمْ: میں تم سے مانگتا ہوں۔
- أَجْرٍ: اجرت، معاوضہ، بدلہ۔
- إِنْ أَجْرِيَ: میرا اجر، میرا معاوضہ۔
- رَبِّ الْعَالَمِينَ: تمام جہانوں کا رب۔
تفسیر:
حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوتِ حق دی اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا: "میں تم سے اس دعوت اور ہدایت کے بدلے کوئی اجرت یا معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا اجر اور میرا ثواب صرف اللہ رب العالمین کے ذمے ہے، جو تمام مخلوقات کا خالق اور مالک ہے۔"
یہ بات نہایت اہم ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت ہمیشہ خالص اللہ کے لیے ہوتی ہے، وہ لوگوں سے کوئی دنیاوی فائدہ یا معاوضہ نہیں چاہتے۔ ان کا مقصد صرف لوگوں کی بھلائی اور انہیں گمراہی سے نجات دلانا ہوتا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی دعوت اور تبلیغ کا مقصد دنیاوی مال و دولت یا شہرت حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خالص اللہ کی رضا اور لوگوں کی ہدایت ہونی چاہیے۔ جو شخص اللہ کے لیے کام کرتا ہے، اللہ اسے بہترین اجر عطا فرماتا ہے، جو دنیا کے کسی خزانے سے بڑھ کر ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ جب انسان اپنا کام خالص اللہ کے لیے کرتا ہے، تو اللہ اس کی مدد فرماتا ہے اور اس کے دل میں سکون و اطمینان پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ عظیم کامیابی ہے جو دنیا کی کوئی دولت نہیں دے سکتی۔
📜 آیت 162-166 — شعراء
ترجمہ — شعراء 164
سورہ شعراء آیت 164 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا۔…سورہ آیت 164/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 162–166. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








