ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اَتَأْتُونَ: کیا تم آتے ہو (یہاں اس سے مراد بدفعلی کرنا ہے)
- الذُّکْرَانَ: مردوں کو، مذکروں کو
- مِنَ الْعَالَمِینَ: تمام انسانوں میں سے
تفسیر آیت:
حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کو اس گھناؤنے فعل سے روک رہے ہیں جو دنیا کی کسی بھی مخلوق نے ان سے پہلے نہیں کیا تھا۔ وہ ان سے استفہامِ انکاری کے انداز میں فرماتے ہیں: "کیا تم تمام جہان والوں میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو؟" یعنی کیا تم نے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے؟ یہ وہ فطرت سے انحراف ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے ناپسندیدہ قرار دیا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے لیے عورت کو اس کا ساتھی بنایا تاکہ وہ اس کے ذریعے سکون حاصل کرے اور نسلِ انسانی آگے بڑھے۔ لیکن قومِ لوط نے اس فطری راستے کو چھوڑ کر غیر فطری اور حیوانی راستہ اختیار کیا۔ یہ فعل نہ صرف اللہ کی نافرمانی ہے بلکہ معاشرتی نظام کو تباہ کرنے کا سبب بھی ہے۔
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حلال کیے ہیں انہیں اختیار کریں اور حرام سے بچیں۔ شہوت کی پیروی انسان کو حیوانیت کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ تقویٰ اور اللہ کا خوف انسان کو بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ آج کے دور میں بھی جب یہ فتنہ عام ہو رہا ہے، ہمیں حضرت لوط علیہ السلام کی اس نصیحت کو یاد رکھنا چاہیے اور اس گھناؤنے فعل سے بچنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال و طیب روزی اور پاکیزہ زندگی عطا فرمائے اور ہمیں ہر اس چیز سے بچائے جو اس کی ناراضگی کا سبب بنے۔ آمین۔
📜 آیت 163-167 — شعراء
ترجمہ — شعراء 165
سورہ شعراء آیت 165 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے…سورہ آیت 165/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 163–167. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








