ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَرْسِلْ: بھیج دو، رہا کر دو، چھوڑ دو۔
- بَنِي إِسْرَائِيلَ: حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد، جو بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔
تفسیر آیت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجنے کا حکم دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پیغمبروں کو واضح ہدایت دی کہ فرعون کے پاس جا کر اس سے کہو: "ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے پیغامبر ہیں، تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو تاکہ وہ اپنے وطن (شام) کی طرف چلے جائیں اور تم انہیں غلام اور محکوم نہ رکھو۔"
یہ پیغام دراصل فرعون کے ظلم و جبر کے خلاف ایک واضح موقف تھا، کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کو سخت غلامی اور مشقت میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو یہ حکم دیا کہ وہ فرعون سے نرمی اور حکمت کے ساتھ بات کریں، لیکن حق کو واضح طور پر بیان کریں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق بات کہنے میں کسی قسم کی جھجک نہیں ہونی چاہیے، چاہے سامنے والا کتنا ہی بڑا ظالم کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی اور فرعون کے سامنے یہ پیغام پہنچایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سچائی اور حق کی تبلیغ میں بڑی سے بڑی طاقت کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ظلم سے نجات دلانے کے لیے ہمیشہ راستے نکالتا ہے۔ جس طرح اس نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات کا وعدہ دیا اور اپنے نبیوں کو ان کی رہنمائی کے لیے بھیجا، اسی طرح آج بھی جو لوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور حق پر قائم رہتے ہیں، اللہ ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، مظلوموں کی حمایت کریں اور اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھامیں، کیونکہ اللہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہے۔
📜 آیت 15-19 — شعراء
ترجمہ — شعراء 17
سورہ شعراء آیت 17 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اور اس لئے آئے ہیں) کہ آپ بنی اسرائیل کو…سورہ آیت 17/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 15–19. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








