ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَأَسْقِطْ: گراؤ، نیچے لاؤ
- کِسَفًا: ٹکڑے، قطعے (یعنی عذاب کے بادل کے ٹکڑے)
- مِنَ السَّمَاءِ: آسمان سے
- إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ: اگر تم سچے لوگوں میں سے ہو
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ قومِ شعیب علیہ السلام کے اُس رویہ کو بیان کرتی ہے جب انہوں نے نبی اللہ شعیب علیہ السلام کی دعوتِ توحید کو ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی سرکشی و ضدی پن کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا: "اگر تم واقعی سچے ہو اور تمہاری نبوت برحق ہے، تو پھر ہم پر آسمان سے عذاب کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔" یہ دراصل ان کی طرف سے ایک چیلنج تھا، مگر اس میں ان کی جہالت اور گستاخی صاف نظر آتی ہے۔
یہ لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو طلب کرنے لگے۔ انہوں نے نہ صرف حق کو جھٹلایا بلکہ اپنے نبی کا مذاق اڑایا اور ایسی بات کہی جو ان کی ہلاکت کا سبب بن سکتی تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ محض ایک مذاق ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے۔
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ پہلا سبق یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باوجود جب کوئی قوم سرکشی پر اتر آتی ہے اور اپنے نبی کو جھٹلاتی ہے، تو وہ عذاب کا مستحق بن جاتی ہے۔ دوسرا سبق یہ کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اس کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ تیسرا سبق یہ کہ ہمیں اپنے نبیوں اور اللہ کے دین کا مذاق اڑانے سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ وہ راستہ ہے جو قوموں کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 185-189 — شعراء
ترجمہ — شعراء 187
سورہ شعراء آیت 187 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک…سورہ آیت 187/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 185–189. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








