شعراء · 202/227
ترجمہ تلفظ — شعراء
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۝٢٠٢
Fayaatiyahum baghtatanw wa hum laa yash`uroon
📖 اردو ترجمہ
وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بَغْتَةً: اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے۔
  • لَا یَشْعُرُونَ: انہیں علم نہیں ہوتا، وہ محسوس نہیں کرتے۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور منکروں کے انجام کو بیان فرمایا ہے کہ جب وہ عذابِ الٰہی کو جھٹلاتے ہیں اور اس کے آنے کا مذاق اڑاتے ہیں تو وہ عذاب ان کے پاس اچانک آپہنچتا ہے، اس طرح کہ انہیں اس کے آنے کا ذرا سا بھی علم یا احساس نہیں ہوتا۔ وہ اس وقت تک غفلت اور لاپرواہی میں ڈوبے رہتے ہیں، یہاں تک کہ عذاب انہیں اس حالت میں آدبوستا ہے جب وہ بالکل بےخبر اور بےاحساس ہوتے ہیں۔

یہ اللہ تعالیٰ کا عدلِ کامل ہے کہ وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے، انہیں توبہ اور اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن جب وہ حق کو جھٹلاتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی پر اڑے رہتے ہیں تو پھر عذاب انہیں اس طرح آلیتا ہے کہ وہ اس سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں کر سکتے۔ اس وقت انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے، لیکن پھر پشیمانی اور حسرت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں: "کیا ہمیں کوئی مہلت مل سکتی ہے؟" لیکن وہ مہلت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہلت پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی دی ہے، عقل دی ہے، اور قرآن و سنت کی صورت میں ہدایت کا راستہ دکھایا ہے۔ یہ سب کچھ ہماری آزمائش کے لیے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی اطاعت کریں، اس کے احکامات پر عمل کریں، اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔ کیونکہ عذاب کا آنا اچانک ہوتا ہے، اور موت کا وقت بھی ہمیں معلوم نہیں۔ آج ہم صحت مند ہیں، کل بیماری آسکتی ہے؛ آج ہم جوان ہیں، کل بڑھاپا آسکتا ہے؛ آج ہم زندہ ہیں، کل موت کا فرشتہ ہمیں بلا سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر لمحہ اللہ کی یاد میں گزارنا چاہیے، اور اپنے اعمال کو سنوارتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے، اور وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ آئیے ہم سب اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اور اس کی رحمت کے طلبگار بنیں، تاکہ ہم اس اچانک عذاب سے محفوظ رہیں اور اللہ کی جنت کے حقدار بنیں۔



📜 آیت 200-204 — شعراء

200كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ
اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا
201لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں گے، اس کو نہیں مانیں گے
202فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی
203فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
اس وقت کہیں گے کیا ہمیں ملہت ملے گی؟
204أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں
شعراءقرآن فہرست
227آیت
مکیRevelation
202آیت

ترجمہ — شعراء 202

سورہ شعراء آیت 202 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر…

سورہ آیت 202/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 200–204. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں