ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُنظَرون: مہلت دیے گئے، ڈھیل دیے گئے، مؤخر کیے گئے۔
تفسیر آیت:
جب ان کافروں پر عذاب اچانک آپہنچے گا، جس کا انہیں کوئی علم نہ ہوگا اور نہ وہ اس کے آنے سے پہلے اسے جانتے ہوں گے، تو وہ اس وقت پشیمانی اور حسرت کے عالم میں کہیں گے: "کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟ کیا ہمیں ڈھیل ملے گی؟" تاکہ ہم اپنے کفر و شرک سے توبہ کریں اور جو کچھ ہم نے کھو دیا ہے اسے پا سکیں، اور ایمان لا کر اپنے انجام کو سنوار لیں۔ لیکن یہ خواہش اس وقت بالکل بے سود ہوگی، کیونکہ عذاب آچکا ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا۔ وہ محض حسرت و افسوس کا اظہار کریں گے، جیسے کوئی غرق ہوتا ہوا شخص پانی میں ہاتھ پیر مارے، لیکن نجات ممکن نہ ہو۔
یہ وہی حالت ہے جس کا ذکر قرآن نے دوسرے مقام پر کیا ہے کہ جب عذاب آجاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: "اب ہم ایمان لائے" لیکن انہیں جواب دیا جاتا ہے: "کیا اب؟ حالانکہ تم پہلے اس کا انکار کرتے رہے۔" یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو مہلت دی، رسول بھیجے، کتابیں اتاریں، لیکن جنہوں نے ان نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھایا، ان کے لیے آخرت میں صرف پچھتاوا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہلت سے دھوکہ نہ کھائیں۔ آج ہمارے پاس وقت ہے، ہم زندہ ہیں، ہماری سانسیں چل رہی ہیں، یہی وہ قیمتی لمحات ہیں جن میں توبہ کی جاسکتی ہے، ایمان کی دولت حاصل کی جاسکتی ہے، اور نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کیا جاسکتا ہے۔ جب موت آجائے گی یا عذاب نازل ہوگا، تو پھر صرف حسرت ہی حسرت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے، لیکن توبہ کا وقت موت کے بعد نہیں ہوتا۔ آج ہی اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اس کی رحمت کے طالب بنیں، کیونکہ کل کا دن کسی کو معلوم نہیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کی مہلت کو غنیمت جانیں اور اپنی آخرت سنواریں۔ آمین۔
📜 آیت 201-205 — شعراء
ترجمہ — شعراء 203
سورہ شعراء آیت 203 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس وقت کہیں گے کیا ہمیں ملہت ملے گی؟سورہ آیت 203/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 201–205. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








