ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عصوک: انہوں نے آپ کی نافرمانی کی، آپ کے حکم کے خلاف کیا۔
- بریء: میں بیزار ہوں، میرا کوئی تعلق نہیں، میں ذمہ دار نہیں ہوں۔
تفسیر:
جب نبی کریم ﷺ اپنے خاندان اور قریب ترین رشتہ داروں کو دعوتِ توحید دیتے ہیں اور انہیں اللہ کی اطاعت اور رسول کی پیروی کی تلقین کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب رسول ﷺ کو ہدایت دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کی بات نہ مانیں، آپ کے حکم کی خلاف ورزی کریں اور شرک و معصیت پر اصرار کریں، تو آپ ان سے صاف صاف کہہ دیں: "میں تمہارے ان اعمال سے بیزار ہوں۔"
یہ براءت کا اعلان ہے۔ یعنی نبی ﷺ کا دین اور ان کا راستہ الگ ہے، اور ان نافرمان لوگوں کا راستہ الگ۔ آپ ﷺ کا تعلق ان کے شرک، کفر اور گناہوں سے قطعی نہیں ہے۔ یہ حکم صرف نبی ﷺ کے لیے نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے ایک سبق ہے کہ جب حق واضح ہو جائے اور لوگ پھر بھی اسے قبول نہ کریں، تو اپنے ایمان اور عقیدے کی حفاظت کے لیے ان کے باطل اعمال سے اپنی براءت اور بیزاری کا اظہار کرنا چاہیے۔
یہ آیت مومن کو عزت اور وقار سکھاتی ہے کہ وہ کبھی باطل کے سامنے سر نہ جھکائے، چاہے مخالف اس کا اپنا خاندان ہی کیوں نہ ہو۔ حق کی راہ پر قائم رہنا اور نافرمانوں سے اپنا دامن بچانا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جب تک انسان اپنے خالق کے حکموں پر چلتا ہے، اسے کسی کی خوشنودی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ نبی ﷺ کا عمل ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ حق پر ثابت قدم رہنا، چاہے دنیا بھر کی مخالفت ہی کیوں نہ ہو، سب سے بڑی کامیابی ہے۔ آج بھی اگر ہم اپنے گھر والوں، رشتہ داروں یا دوستوں کو نیکی کی دعوت دیں اور وہ نہ مانیں، تو ہمیں ان سے محبت اور حسن سلوک تو برقرار رکھنا چاہیے، لیکن ان کے غلط اعمال سے اپنی براءت کا اظہار کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ہمارا ایمان محفوظ رہے اور ہم اللہ کی ناراضگی سے بچ سکیں۔
📜 آیت 214-218 — شعراء
ترجمہ — شعراء 216
سورہ شعراء آیت 216 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ…سورہ آیت 216/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 214–218. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








