نمل · 32/93
ترجمہ تلفظ — نمل
قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ۝٣٢
Qaalat yaaa aiyuhal mala`u aftoonee fee amree maa kuntu qaati`atan amran hattaa tashhhaddon
📖 اردو ترجمہ
(خط سنا کر) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، جب تک تم حاضر نہ ہو (اور صلاح نہ دو) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْمَلَأُ: اشراف، عمائد قوم اور بڑے لوگ۔
  • أَفْتُونِي: مجھے رائے دو، مشورہ دو، اس معاملے میں میری رہنمائی کرو۔
  • قَاطِعَةً: فیصلہ کرنے والی، حتمی طور پر طے کرنے والی۔
  • تَشْهَدُونِ: تم حاضر ہو، تم میرے پاس موجود ہو۔

تفسیر:

جب ملکہ سبا (بلقیس) کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط ملا جس میں انہیں توحید اور اللہ کی اطاعت کی دعوت دی گئی تھی، تو انہوں نے اپنی قوم کے بڑے لوگوں اور عمائدین کو جمع کیا۔ یہ ایک بہت بڑا اور اہم فیصلہ تھا، اس لیے انہوں نے تنہا فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے مشیروں اور اشرافِ قوم سے مشورہ طلب کیا۔ انہوں نے کہا: "اے میرے معزز سردارو اور عمائدین! اس معاملے میں مجھے اپنی رائے دو، کیونکہ میں تمہاری موجودگی اور تمہارے مشورے کے بغیر کسی بھی اہم معاملے کا فیصلہ نہیں کرتی۔"

یہ فرمانا دراصل ان کی دانائی، عاجزی اور اپنی قوم کی رائے کی قدر کرنے کا مظہر تھا۔ وہ ایک حکمران ہونے کے باوجود مشورے کو اہمیت دیتی تھیں، اور یہی ایک عظیم حکمران کی خوبی ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کے سامنے معاملہ رکھا تاکہ اجتماعی رائے سے صحیح فیصلہ ہو سکے، اور سب کو اس میں شریک کر کے ان کے دلوں کو مطمئن کیا جا سکے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اہم معاملات میں مشورہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہاں تک کہ ایک غیر مسلم حکمرانہ نے بھی اس اصول کو اپنایا، تو ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے معاملات میں مشورے کو اہمیت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا: "اور ان کے ساتھ مشورہ کرو" (آل عمران: 159)۔ مشورہ برکت کا باعث ہے، اور جب لوگ مل کر سوچتے ہیں تو فیصلے زیادہ درست اور مضبوط ہوتے ہیں۔

یہاں یہ بھی دیکھیے کہ ملکہ نے اپنی قوم کے سامنے اپنا معاملہ رکھا، اور ان کی رائے کو اہمیت دی، جس سے قوم کے دلوں میں ان کی محبت اور عزت بڑھی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے خاندان، دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ مشورے سے کام لیں، اور ان کی رائے کا احترام کریں۔ یہ اسلامی تعلیمات کا ایک خوبصورت پہلو ہے جو معاشرے میں محبت اور اتحاد پیدا کرتا ہے۔

اور جب ملکہ نے اپنی قوم سے مشورہ کیا تو قوم نے بھی اپنی حکمران کا ساتھ دیا اور کہا کہ ہم طاقت اور قوت والے ہیں، لیکن فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بھی ایک عظیم سبق ہے کہ مشورہ کرنے سے قوم اور حکمران کے درمیان اعتماد بڑھتا ہے، اور مل کر فیصلے کرنے سے مشکلات آسان ہو جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں مشورے کی برکت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 30-34 — نمل

30إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
31أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
(بعد اس کے یہ) کہ مجھے سرکشی نہ کرو اور مطیع ومنقاد ہو کر میرے پاس چلے آؤ
32قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ
(خط سنا کر) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، جب تک تم حاضر نہ ہو (اور صلاح نہ دو) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں
33قَالُوا نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالْأَمْرُ إِلَيْكِ فَانظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ
وہ بولے کہ ہم بڑے زورآور اور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار ہے تو جو حکم دیجیئے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجیئے گا
34قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ
اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے
نملقرآن فہرست
93آیت
مکیRevelation
32آیت

ترجمہ — نمل 32

سورہ نمل آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خط سنا کر) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار…

سورہ آیت 32/93 — نمل النمل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نمل سنیں, نمل ترجمہ, نمل mp3, نمل pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں