لا قِبَلَ لَهُم بِهَا: ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ ہوگی۔
أَذِلَّةً: ذلیل و خوار ہو کر۔
صَاغِرُونَ: حقیر اور بے عزت ہو کر۔
تفسیر:
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کے قاصد سے فرمایا: جو تحفہ تم لائے ہو اسے لے کر ان کے پاس واپس جاؤ۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے یہ عظیم سلطنت اور معجزاتی طاقت عطا فرمائی ہے، میں ضرور ان کے پاس ایسے لشکروں کے ساتھ آؤں گا جن کا مقابلہ کرنے کی طاقت ان میں نہیں ہوگی۔ اور اگر وہ حق کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں اور اپنی باطل پرستی پر قائم رہیں تو میں انہیں ان کی سرزمین (سبا) سے اس حال میں نکال باہر کروں گا کہ وہ ذلیل و خوار اور بے عزت و رسوا ہوں گے، اور یہ اس وقت ہوگا جب وہ اللہ کی عبادت کی طرف رجوع نہ کریں گے۔
یہ فرمانِ نبوت تھا جو عدل و حکمت پر مبنی تھا، کیونکہ سلیمان علیہ السلام نے انہیں ڈرانے کے ساتھ ساتھ راہِ حق دکھانے کا دروازہ بھی کھلا رکھا تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ محض خوف سے ایمان لائیں، بلکہ ان کی دعوت تھی کہ وہ اپنے دل سے اللہ کی وحدانیت کو قبول کریں اور اس کی عبادت کی طرف رجوع کریں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت کریمہ سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ حق کا بول بالا ہوتا ہے اور باطل کو آخرکار ذلت و خواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ کے دین کی مدد کرنے والوں کو کبھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔ سلیمان علیہ السلام نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ کی اطاعت اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے استعمال کیا، یہی وہ راستہ ہے جو ہر مسلمان کو اپنانا چاہیے۔ جب ہم اللہ کی راہ میں مضبوطی سے کھڑے ہوں گے تو اللہ ہمیں عزت عطا فرمائے گا، اور جو لوگ حق سے منہ موڑیں گے وہ اپنے انجام سے نہیں بچ سکیں گے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دعوت و تبلیغ میں حکمت اور قوت دونوں کا توازن ہونا چاہیے، اور ساتھ ہی ساتھ اللہ کی قدرت پر کامل یقین رکھنا چاہیے کہ وہی عزت و ذلت کا مالک ہے۔
جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو، جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہوگے
جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔