نمل · 38/93
ترجمہ تلفظ — نمل
قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۝٣٨
Qaala yaaa aiyuhal mala`u aiyukum yaateenee bi`arshihaa qabla ai yaatoonee muslimeen
📖 اردو ترجمہ
سلیمان نے کہا کہ اے دربار والو! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْمَلَأُ: قوم کے معزز اور سردار لوگ، اہلِ مشورہ۔
  • بِعَرْشِهَا: اس (ملکہ بلقیس) کا تخت، جو اس کی بادشاہت اور اقتدار کی علامت تھا۔
  • مُسْلِمِينَ: فرمانبردار اور اطاعت گزار ہو کر (یہاں مراد اسلام لانے والے یا حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے

تفسیر:

حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ سبا (بلقیس) کا پیغام سنا اور وہ سمجھ گئے کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ شرک اور بادشاہی کے گھمنڈ میں مبتلا ہے، تو انہوں نے اپنی قوتِ ایمانی اور اللہ کی عطا کردہ سلطنت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے درباریوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے فرمایا: "اے معزز لوگو! تم میں سے کون ہے جو اس کے تخت کو لے کر آئے گا، اس سے پہلے کہ وہ لوگ میرے پاس فرمانبردار ہو کر آئیں؟"

یہ ایک حکمت بھرا امتحان تھا، جس سے سلیمان علیہ السلام نے اپنی سلطنت کی وسعت، جنات اور انسانوں کی طاقت، اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ معجزاتی قوتوں کا اظہار کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ بلقیس اور اس کی قوم پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ سلیمان کی بادشاہت محض دنیاوی طاقت نہیں، بلکہ اللہ کی نبوت اور ولایت کا نتیجہ ہے، اور وہ اپنے رب کی مدد سے ہر چیز پر قادر ہے۔

اس آیت میں ہمیں چند اہم اسباق ملتے ہیں:

  1. حکمت اور تدبیر: سلیمان علیہ السلام نے فوری طور پر جنگ یا جبر کا راستہ نہیں اپنایا، بلکہ حکمت سے کام لیا اور اپنی قوت کا مظاہرہ کیا تاکہ مخالفین خود سوچیں اور حق کو پہچانیں۔
  2. اطاعت کی فضیلت: "مسلمین" کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصل مقصد محض تخت حاصل کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو اللہ کی اطاعت اور دینِ حق کی طرف لانا تھا۔ سلیمان علیہ السلام چاہتے تھے کہ بلقیس اور اس کی قوم بغیر کسی جنگ کے اسلام قبول کر لیں، کیونکہ اسلام میں جان بچانا اور ہدایت پھیلانا سب سے بڑی کامیابی ہے۔
  3. اللہ پر بھروسہ: سلیمان علیہ السلام کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اسے ایسی طاقتیں عطا کرتا ہے جو عام انسانی وسعت سے باہر ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم اپنے معاملات میں اللہ کی مدد طلب کریں اور اس کے فضل پر یقین رکھیں۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام کی دعوت میں حکمت، صبر اور طاقت کا صحیح استعمال کتنا اہم ہے۔ سلیمان علیہ السلام نے اپنی سلطنت کو اللہ کی راہ میں استعمال کیا، نہ کہ اپنی نفسانی خواہشات کے لیے۔ آج ہمیں بھی اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو اللہ کی رضا اور دین کی سربلندی کے لیے استعمال کرنا چاہیے، تاکہ ہم بھی اس عظیم نبی کے نقش قدم پر چل سکیں۔



📜 آیت 36-40 — نمل

36فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ
جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو، جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہوگے
37ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ
ان کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی ان میں طاقت نہ ہوگی اور ان کو وہاں سے بےعزت کرکے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے
38قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
سلیمان نے کہا کہ اے دربار والو! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے
39قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ
جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں
40قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ
ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے
نملقرآن فہرست
93آیت
مکیRevelation
38آیت

ترجمہ — نمل 38

سورہ نمل آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : سلیمان نے کہا کہ اے دربار والو! کوئی تم میں…

سورہ آیت 38/93 — نمل النمل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نمل سنیں, نمل ترجمہ, نمل mp3, نمل pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں