قصص · 25/88
ترجمہ تلفظ — قصص
فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۝٢٥
Fajaaa`at hu ihdaahumaa tamshee `alas tihyaaa`in qaalat inna abee yad`ooka li yajziyaka ajra maa saqaita lanaa; falammaa jaaa`ahoo wa qassa `alaihil qasasa qaala laa takhaf najawta minal qawmiz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
(تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی۔ موسٰی کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اُجرت دیں۔ جب وہ اُن کے پاس آئے اور اُن سے اپنا ماجرا بیان کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو۔ تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عَلَى اسْتِحْيَاءٍ: حیا اور شرم کے ساتھ۔
  • لِيَجْزِيَكَ: تاکہ وہ آپ کو اجر دے۔
  • الْقَصَصَ: اپنا پورا حال اور واقعہ۔
  • الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ: ظالم لوگ، یعنی فرعون اور اس کی قوم۔

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان دو عورتوں کے لیے جانوروں کو پانی پلایا اور وہ اپنے والد کے پاس واپس گئیں، تو انہوں نے اپنے والد کو اس نیک اور طاقتور جوان کا واقعہ سنایا۔ والد نے اپنی ایک بیٹی کو حضرت موسیٰ کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں بلائے تاکہ ان کی مدد کا صلہ دے سکیں۔ وہ بیٹی حیا اور شرم کے ساتھ، پردے اور سلیقے سے حضرت موسیٰ کے پاس آئی اور کہا: "میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ کو ہمارے لیے پانی پلانے کا اجر دیں۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے ساتھ اس کے والد کے پاس گئے۔ جب وہ پہنچے اور اپنا سارا حال بیان کیا — کہ وہ مصر سے کیسے نکلے، فرعون کے ظلم سے کیسے بھاگے، اور ان کے ساتھ کیا کیا گزرا — تو اس بزرگ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: "ڈرو مت، تم ظالم قوم (فرعون اور اس کے ساتھیوں) سے نجات پا چکے ہو، کیونکہ ان کا اقتدار اس سرزمین (مدین) تک نہیں پہنچتا، اور وہ تمہیں یہاں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔"

دعوتی پہلو:

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بغیر کسی لالچ کے دو کمزور عورتوں کی مدد کی، اور اللہ نے انہیں نہ صرف عزت اور پناہ دی بلکہ ان کے لیے ایک محفوظ گھر اور خاندان کا انتظام بھی کیا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو شخص نیکی کرتا ہے، اللہ اسے اس کا اجر ضرور دیتا ہے، چاہے وہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بغیر کسی غرض کے دوسروں کی مدد کریں، کیونکہ اللہ نیک لوگوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ حیا اور شرم بھی ایک عظیم خوبی ہے، جیسا کہ اس عورت نے حیا کے ساتھ آنے کا طریقہ اپنایا، اور یہی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اللہ ہمیں نیکی، حیا اور دوسروں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 23-27 — قصص

23وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
اور جب مدین کے پانی (کے مقام) پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہو رہے (اور اپنے چارپایوں کو) پانی پلا رہے ہیں اور ان کے ایک طرف دو عورتیں (اپنی بکریوں کو) روکے کھڑی ہیں۔ موسٰی نے (اُن سے) کہا تمہارا کیا کام ہے۔ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے (اپنے چارپایوں کو) لے نہ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتے اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں
24فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
تو موسٰی نے اُن کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے۔ اور کہنے لگے کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے
25فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی۔ موسٰی کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اُجرت دیں۔ جب وہ اُن کے پاس آئے اور اُن سے اپنا ماجرا بیان کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو۔ تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو
26قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ
ایک لڑکی بولی کہ ابّا ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے (جو) توانا اور امانت دار (ہو)
27قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَىٰ أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ ۖ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
اُنہوں نے (موسٰی سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس عہد پر کہ تم آٹھ برس میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کر دو تو تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تم پر تکلیف ڈالنی نہیں چاہتا۔ مجھے انشاء الله نیک لوگوں میں پاؤ گے
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
25آیت

ترجمہ — قصص 25

سورہ قصص آیت 25 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو…

سورہ آیت 25/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 23–27. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں