قصص · 36/88
ترجمہ تلفظ — قصص
فَلَمَّا جَاءَهُم مُّوسَىٰ بِآيَاتِنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَمَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ ۝٣٦
Falammaa jaaa`ahum Moosaa bi Aayaatinaa baiyinaatin qaaloo maa haazaaa illaa sihrum muftaranw wa maa sami`naa bihaazaa feee aabaaa`inal awwaleen
📖 اردو ترجمہ
اور جب موسٰی اُن کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لےکر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے جو اُس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنی نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بِآيَاتِنَا بَيِّنَاتٍ: ہماری واضح اور روشن نشانیاں (معجزات)
  • سِحْرٌ مُفْتَرًى: جھوٹا اور من گھڑت جادو
  • فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ: ہمارے پہلے باپ داداؤں کے زمانے میں

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس ہماری واضح نشانیاں اور روشن معجزات لے کر آئے، جو ان کی رسالت کی سچائی پر گواہ تھے، تو انہوں نے حق کو ماننے کے بجائے سرکشی اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ محض جادو ہے جو موسیٰ نے خود گھڑ لیا ہے، اور یہ کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے اپنے پہلے باپ داداؤں کے زمانے میں ایسی کوئی بات نہیں سنی، یعنی یہ دعویٰ توحید اور رسالت ان کے نزدیک کوئی نئی بات تھی جو ان کی روایات کے خلاف تھی۔

یہ اندازِ فکر ظاہر کرتا ہے کہ فرعونیوں کی مخالفت دلیل اور برہان کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ محض ضد، تکبر اور اپنے آباء و اجداد کی تقلید پر مبنی تھی۔ انہوں نے حق کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ جھٹلانے میں جلدی کی۔ حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات انتہائی واضح اور قاطع تھے، جیسے عصا کا سانپ بننا، ید بیضا، اور دوسرے معجزات جو ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کو قبول کرنے کے لیے دل کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی مدد ضروری ہے۔ جو لوگ اپنے تکبر اور تعصب کی وجہ سے حق سے منہ موڑتے ہیں، وہ کبھی ہدایت نہیں پاتے، چاہے ان کے سامنے کتنے ہی واضح دلائل پیش کر دیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے آباء و اجداد کی کورانہ تقلید سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 34-38 — قصص

34وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي ۖ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ
اور ہارون (جو) میرا بھائی (ہے) اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بناکر بھیج کہ میری تصدیق کرے مجھے خوف ہے کہ وہ میری لوگ تکذیب کریں گے
35قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَانًا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا ۚ بِآيَاتِنَا أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَالِبُونَ
(خدا نے) فرمایا ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے (اور) تم اور جنہوں نے تمہاری پیروی کی غالب رہو گے
36فَلَمَّا جَاءَهُم مُّوسَىٰ بِآيَاتِنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَمَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ
اور جب موسٰی اُن کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لےکر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے جو اُس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنی نہیں
37وَقَالَ مُوسَىٰ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَن جَاءَ بِالْهُدَىٰ مِنْ عِندِهِ وَمَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۖ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
اور موسٰی نے کہا کہ میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے حق لےکر آیا ہے اور جس کے لئے عاقبت کا گھر (یعنی بہشت) ہے۔ بیشک ظالم نجات نہیں پائیں گے
38وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرِي فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَل لِّي صَرْحًا لَّعَلِّي أَطَّلِعُ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ
اور فرعون نے کہا کہ اے اہلِ دربار میں تمہارا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں جانتا تو ہامان میرے لئے گارے کو آگ لگوا (کر اینٹیں پکوا) دو پھر ایک (اُونچا) محل بنادو تاکہ میں موسٰی کے خدا کی طرف چڑھ جاؤں اور میں تو اُسے جھوٹا سمجھتا ہوں
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
36آیت

ترجمہ — قصص 36

سورہ قصص آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب موسٰی اُن کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لےکر…

سورہ آیت 36/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں