ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَعْنَةً: پھٹکار، رحمت سے دوری، رسوائی اور ذلت۔
- الْمَقْبُوحِینَ: وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں، جن کی شکلیں بگاڑ دی گئی ہوں، اور جو رحمتِ الٰہی سے دور پھینک دیے گئے ہوں۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے انجام کو بیان فرما رہے ہیں۔ جب انہوں نے حق کو جھٹلایا اور موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا، تو اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلت و رسوائی میں مبتلا کیا اور ان پر اپنی پھٹکار اور غضب نازل کیا۔ وہ قومِ فرعون ہمیشہ کے لیے بدنامِ زمانہ ہوگئی، ان کا ذکر آج تک نفرت اور لعنت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ صرف دنیا کا عذاب نہیں تھا، بلکہ آخرت میں ان کے لیے اس سے بھی بڑا عذاب ہے۔ قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، جن کی شکلیں بگاڑ دی جائیں گی، اور وہ اللہ کی رحمت سے مکمل طور پر محروم اور دور کر دیے جائیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے رسولوں کی مخالفت کا انجام کتنا برا ہوتا ہے۔ فرعون جیسی طاقت اور شان و شوکت والی سلطنت بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکی۔ آج بھی جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں اور ظلم و سرکشی پر اڑے رہتے ہیں، وہ اسی انجام سے ڈریں۔ لیکن اس کے برعکس، جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں، ان کے لیے دنیا میں عزت اور آخرت میں جنت کی خوشخبری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکموں کے مطابق ڈھالیں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اور اس عظیم انجام سے بچنے کی کوشش کریں جو فرعون اور اس کے ساتھیوں کا ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت سے دور نہ کرے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 40-44 — قصص
ترجمہ — قصص 42
سورہ قصص آیت 42 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس دنیا سے ہم نے اُن کے پیچھے لعنت…سورہ آیت 42/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 40–44. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








