Fakullan akhaznaa bizam bihee faminhum man arsalnaa `alaihi haasibaa; wa minhum man akhazat hus saihatu wa minhum man khasafnaa bihil arda wa minhum man aghraqnaa; wa maa kaanal laahu li yazlimahum wa laakin kaanoo anfusahum yazlimoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
همه را به گناهشان فروگرفتيم: بر بعضى بادهاى ريگبار فرستاديم، بعضى را فرياد سهمناك فروگرفت، بعضى را در زمين فرو برديم، بعضى را غرقه ساختيم. و خدا به آنها ستم نمىكرد، آنها خود به خويشتن ستم كرده بودند.
تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حاصِبًا: پتھر برسانے والی ہوا، یا پکی ہوئی مٹی کے پتھر۔
الصَّيْحَةُ: سخت چیخ اور دہاڑ جو عذاب کے طور پر آتی ہے۔
خَسَفْنَا: زمین میں دھنسا دینا۔
أَغْرَقْنَا: پانی میں غرق کر دینا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے ان تمام پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جن کا ذکر اس سے پہلے آیات میں ہوا، ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑا اور انہیں سزا دی۔ ان میں سے کچھ ایسے تھے جن پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی گئی، جیسے قومِ لوط پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔ کچھ ایسے تھے جنہیں ایک زوردار چیخ نے آ دبایا، جیسے قومِ صالح اور قومِ شعیب۔ کچھ ایسے تھے جنہیں ہم نے زمین میں دھنسا دیا، جیسے قارون کو اس کے خزانوں سمیت۔ اور کچھ ایسے تھے جنہیں ہم نے غرق کر دیا، جیسے قومِ نوح اور فرعون اور اس کی قوم کو۔
اللہ تعالیٰ ہرگز ظالم نہیں ہے کہ کسی کو بغیر جرم کے سزا دے۔ یہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے، کیونکہ وہ اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے تھے لیکن اس کے بجائے اس کی نافرمانی کرتے تھے اور غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کیا، اور اللہ کا عذاب ان پر اس لیے آیا کہ انہوں نے حق کو جھٹلایا اور اپنے رسولوں کی دعوت کو رد کر دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے، لیکن وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ ہر انسان جو برائی کرتا ہے، وہ دراصل خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو رسول بھیجے اور انہیں راستہ دکھایا، لیکن جنہوں نے انکار کیا، انہیں مختلف طریقوں سے سزا دی گئی۔ یہ سزائیں اس لیے تھیں کہ لوگ عبرت حاصل کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان واقعات سے سبق لیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طالب بنیں، کیونکہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ جو لوگ اللہ کی طرف لوٹ آتے ہیں، ان کے لیے جنت کی نعمتیں اور ہمیشہ کی کامیابی ہے۔
اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا) چنانچہ اُن کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے اُن کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو (سیدھے) رستے سے روک دیا۔ حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کر دیا) اور اُن کے پاس موسٰی کھلی نشانی لےکر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے
تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔