Awa lammaaa asaabatkum museebatun qad asabtum mislaihaa qultum annaa haazaa qul huwa min `indi anfusikum; innal laaha `alaa kulli shai`in Qadeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و آيا هنگامى كه آسيبى به شما رسيد كه شما خود دوچند آن رسانده بوديد، گفتيد: اين آسيب از كجا رسيد؟ بگو: از جانب خودتان. هر آينه خدا بر هر چيزى تواناست.
(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مصیبت: وہ تکلیف اور نقصان جو پہنچے۔
مثلینا: اس کا دوگنا۔
أنى: کہاں سے، کیسے۔
تفسیر:
اے ایمان والو! جب تم پر احد کے دن وہ مصیبت آئی جس میں تمہارے ستر افراد شہید ہوئے، تو تم نے تعجب کیا اور کہا: "یہ کیسے ہو گیا؟ ہم تو مسلمان ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں، اور یہ مشرک ہیں، پھر بھی ہمیں شکست ہوئی؟" حالانکہ تم نے خود بدر کے دن انہیں دشمنوں سے دوگنا نقصان پہنچایا تھا، وہاں ستر قتل کیے اور ستر کو قیدی بنایا۔
اللہ تعالیٰ انہیں جواب دینے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: اے نبی! ان سے کہہ دو کہ یہ مصیبت تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کی، اس مقام کو چھوڑ دیا جو تمہیں دیا گیا تھا، اور تم مالِ غنیمت کی طرف مائل ہو گئے۔ یہ سب تمہارے اپنے اختیار اور فیصلوں کا نتیجہ تھا۔
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، جسے چاہے فتح نصیب کرے اور جسے چاہے آزمائش میں ڈالے۔ اس کی حکمت کامل ہے اور اس کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ جو کچھ بھی ہم پر آتا ہے، وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب ہم اللہ کے حکموں پر عمل کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے تو اللہ ہمیں عزت دے گا، اور جب ہم غفلت اور نافرمانی کریں گے تو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ یہ آزمائشیں ہمارے ایمان کو نکھارنے کا ذریعہ ہیں، تاکہ ہم اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اپنے اعمال کا محاسبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ ہمیں تنبیہ کرتا ہے تاکہ ہم سنبھل جائیں اور اس کی رحمت کی طرف لوٹ آئیں۔ کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے حکموں کے سامنے سر تسلیم خم کریں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ثابت قدم رہیں۔
خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے
(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے
سورہ آل عمران آیت 165 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن…
سورہ آیت 165/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 163–167. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔