ترجمہ — Tafsir
یومِ قیامت کا وہ ہولناک منظر جب ہر نفس اپنے کیے ہوئے نیک اعمال کو اپنے سامنے حاضر پائے گا، مکمل اور بھرپور، جس میں کوئی کمی نہ ہوگی، اور جو برائی اس نے کی ہوگی وہ بھی اس کے سامنے موجود ہوگی۔ اس وقت وہ شدتِ ندامت اور پشیمانی سے چاہے گا کہ کاش اس کے اور اس کے برے اعمال کے درمیان بہت طویل فاصلہ ہوتا، زمانہ دراز کا فرق ہوتا۔ لیکن یہ خواہش اس وقت بے سود ہوگی۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس دن سے ڈراتا ہے اور اپنے عذاب سے خبردار کرتا ہے تاکہ وہ دنیا میں اپنے اعمال سنوار لیں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔ یہ ڈرانا دراصل اللہ کی رحمت اور شفقت کا تقاضا ہے، کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔ وہ انہیں تنبیہ کرکے جہنم کے عذاب سے بچانا چاہتا ہے، ورنہ وہ ان پر عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ کی یہ تنبیہ اس کی رحمت کا ہی ایک پہلو ہے، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ بندے اس کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں اور نیک اعمال کریں۔ وہ اپنے بندوں کے حال پر رحم کرنے والا ہے، ان کی بھلائی چاہنے والا ہے، اور انہیں اس دن کے خوف سے آگاہ کرکے دراصل ان کی اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے۔
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، نیکیوں میں اضافہ کریں اور برائیوں سے بچیں، تاکہ قیامت کے دن ہمیں اپنے اعمال کا سامنا کرتے ہوئے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، اور وہ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے، اس لیے اس نے ہمیں اس دن سے ڈرایا ہے تاکہ ہم اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔
📜 آیت 28-32 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 30
سورہ آل عمران آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود…سورہ آیت 30/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








