ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَوْلَى: سب سے زیادہ قریب، سب سے زیادہ حقدار۔
- بِإِبْرَاهِيمَ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت اور تعلق کے اعتبار سے۔
- اتَّبَعُوهُ: جنہوں نے ان کی پیروی کی اور ان کے دین پر چلے۔
- وَلِيُّ: مددگار، دوست، حامی اور نگہبان۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرما دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حقیقی نسبت اور تعلق رکھنے والے کون ہیں؟ یہاں اللہ رب العزت ان لوگوں کے دعوؤں کا رد فرما رہے ہیں جو اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد یا پیروکار کہتے تھے، مگر ان کی تعلیمات سے دور تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ حقدار اور قریب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی اتباع کی، ان کی لائی ہوئی توحید اور شریعت پر ایمان لائے اور ان کے نقش قدم پر چلے۔ پھر اس کے بعد سب سے بڑھ کر اس نسبت کے حقدار ہیں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کے حقیقی وارث ہیں، اور آپ ہی نے ان کی ملت کو مکمل اور دائمی شکل میں پیش کیا۔
اس کے بعد جو مومنین ہیں، وہ بھی اس نسبت میں شامل ہیں، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو اپنا لیا۔ گویا ابراہیمی وراثت کا سلسلہ یہ ہے: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع کرنے والے، پھر خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اور پھر آپ کی امت کے مومنین۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ مومنین کا ولی اور مددگار ہے۔ یہ ایک بشارت ہے کہ جو لوگ سچے دل سے ایمان لائیں گے اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے، اللہ ان کی حفاظت فرمائے گا، ان کی مدد کرے گا اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی شخصیت سے محبت اور نسبت کا دعویٰ کرنا کافی نہیں، بلکہ اصل چیز ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں یا فلاں شخصیت سے ہماری نسبت ہے، لیکن ان کے اعمال ان تعلیمات کے خلاف ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں! حقیقی محبت اور نسبت کا معیار اتباع ہے۔ اگر ہم واقعی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں تو ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا، توحید کو اپنانا ہوگا، اور اپنی زندگی کو ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومنین بندوں کا ولی ہے، اور جو اللہ کا ولی بن جائے، اسے کسی چیز کا خوف نہیں اور نہ ہی وہ غمگین ہوتا ہے۔
📜 آیت 66-70 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 68
سورہ آل عمران آیت 68 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو…سورہ آیت 68/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 66–70. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








