سبا · 15/54
ترجمہ تلفظ — سبا
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ ۝١٥
Laqad kaana li Saba-in fee maskanihim Aayatun jannataani `ai yameeninw wa shimaalin kuloo mir rizq Rabbikum washkuroolah; baldatun taiyibatunw wa Rabbun Ghafoor
📖 اردو ترجمہ
(اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور (ایک) بائیں طرف۔ اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار
📜

ترجمہ — Tafsir

لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ

معانی الفاظ:

  • سَبَإٍ: یمن کا ایک مشہور علاقہ یا قبیلہ، جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔
  • مَسْکَنِهِمْ: ان کی رہائش گاہ، ان کا وطن۔
  • آیَةٌ: نشانی، علامت، جو اللہ کی قدرت اور رحمت پر دلالت کرے۔
  • جَنَّتَانِ: دو باغ، دو باغات۔
  • عَن یَمِینٍ وَشِمَالٍ: دائیں اور بائیں طرف سے۔
  • بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ: پاکیزہ اور عمدہ شہر یا زمین۔
  • رَبٌّ غَفُورٌ: بخشنے والا رب۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قومِ سبا کے حالات کو بیان فرمایا ہے، جو یمن میں آباد تھی اور اللہ کی نعمتوں سے مالا مال تھی۔ ان کی رہائش گاہ میں اللہ کی قدرت اور رحمت کی عظیم نشانی موجود تھی، یعنی ان کے شہر کے دائیں اور بائیں طرف دو سرسبز و شاداب باغات تھے، جن میں ہر قسم کے پھل اور ثمرات پیدا ہوتے تھے۔ یہ نعمت خود اس بات کی دلیل تھی کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کا رازق اور محافظ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "کھاؤ اپنے رب کے رزق سے اور اس کا شکر ادا کرو۔" یعنی یہ تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں، اس لیے ان کا حق ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس کی اطاعت کریں اور اس کے احسانات پر شکر بجا لائیں۔ ان کی زمین انتہائی زرخیز اور پاکیزہ تھی، جس میں برکت تھی، اور ان کا رب بھی بڑا بخشنے والا تھا، جو اپنے بندوں کی خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے، بشرطیکہ وہ توبہ کریں اور اس کی طرف رجوع کریں۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمتیں دیتا ہے تو اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ شکر ادا کرے، کیونکہ شکر نعمت کو باقی رکھتا ہے اور اس میں اضافہ کرتا ہے۔ قومِ سبا کے پاس ہر چیز تھی: پاکیزہ شہر، سرسبز باغات، اور غفور رب، لیکن جب انہوں نے شکر کی بجائے ناشکری کی اور اللہ کی نعمتوں سے منہ موڑا، تو ان پر عذاب آیا اور وہ نعمتیں چھن گئیں۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں کو پہچانیں اور ان پر شکر ادا کریں۔ شکر کا مطلب صرف زبان سے "الحمدللہ" کہنا نہیں، بلکہ اللہ کی اطاعت کرنا، اس کے حکموں پر عمل کرنا، اور نعمتوں کو اس کی رضا کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ اگر ہم شکر گزار بندے بن جائیں تو اللہ ہمیں مزید نوازے گا، اور اگر ہم ناشکری کریں تو اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ آئیے ہم اپنے رب کے احسانات کو یاد کریں، اس کی عبادت کریں، اور اس سے مغفرت طلب کریں، کیونکہ وہ غفور ہے اور اپنے توبہ کرنے والے بندوں کو معاف کر دیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 13-17 — سبا

13يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
14فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے
15لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ
(اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور (ایک) بائیں طرف۔ اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار
16فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُم بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِّن سِدْرٍ قَلِيلٍ
تو انہوں نے (شکرگزاری سے) منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں
17ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِمَا كَفَرُوا ۖ وَهَلْ نُجَازِي إِلَّا الْكَفُورَ
یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی۔ اور ہم سزا ناشکرے ہی کو دیا کرتے ہیں
سباقرآن فہرست
54آیت
مکیRevelation
15آیت

ترجمہ — سبا 15

سورہ سبا آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک…

سورہ آیت 15/54 — سبا سبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سبا سنیں, سبا ترجمہ, سبا mp3, سبا pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں