ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قِیلَ: اس سے کہا گیا۔
- ادْخُلِ الْجَنَّةَ: جنت میں داخل ہو جا۔
- یَا لَیْتَ: کاش! (تمنا کا کلمہ)۔
- یَعْلَمُونَ: وہ جان لیں۔
تفسیر:
جب اس نیک بندے کو اس کی قوم نے شہید کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی عزت و تکریم کے لیے اس سے کہا: "جنت میں داخل ہو جا۔" یہ اس کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا کہ شہادت کے فوراً بعد اسے جنت کی نعمتوں سے نوازا گیا۔ جب وہ جنت میں داخل ہوا اور وہاں کی لازوال نعمتیں، آرام و سکون اور اللہ کی قربت کا مشاہدہ کیا، تو اس کے دل میں اپنی قوم کے لیے محبت اور شفقت پیدا ہوئی۔ اس نے تمنا کی: "کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہوا، اور اللہ نے مجھے کس عظیم انعام سے نوازا ہے۔"
اس کی یہ تمنا دراصل ان کے لیے ہدایت کی دعا تھی، تاکہ وہ بھی ایمان لا کر اسی خوش بختی سے محروم نہ رہیں۔ وہ چاہتا تھا کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ جو شخص ایمان لاتا ہے اور اللہ کے راستے میں قربانی دیتا ہے، اس کا انجام کتنا خوبصورت ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کے راستے میں جان دینے والوں کے لیے اللہ کے پاس کتنی بڑی عزت اور انعامات ہیں۔ یہ بندہ اپنے قاتلوں کے لیے بد دعا نہیں کرتا، بلکہ ان کی ہدایت کی تمنا کرتا ہے۔ یہ اسلام کی عظمت اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کے لیے بھی بھلائی چاہیں۔ اگر ہم ایمان کی حلاوت اور اللہ کی رضا کا ذائقہ چکھ لیں، تو ہم بھی اپنے پیاروں کو اس راستے کی دعوت دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی سچائی اور اس پر استقامت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 24-28 — یس
ترجمہ — یس 26
سورہ یس آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا۔ بولا کاش! میری…سورہ آیت 26/83 — یس يس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یس سنیں, یس ترجمہ, یس mp3, یس pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








