ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آیت: نشان، علامت، دلیل اور معجزہ۔
- معرضین: منہ موڑنے والے، کنارہ کشی کرنے والے۔
تفسیر:
یہ آیت ان کافروں اور مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو حق کے سامنے آنے کے باوجود اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بھی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی، دلیل یا معجزہ آتا ہے جو انہیں حق کی راہ دکھاتا ہے اور رسولِ کریم ﷺ کی صداقت کو ثابت کرتا ہے، تو وہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں اور اس پر غور و فکر نہیں کرتے۔
یہ ان کی سرکشی اور ضد کی انتہا ہے کہ وہ ہر اس دلیل کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو انہیں توحید اور اللہ کی عبادت کی طرف بلاتی ہے۔ انہوں نے اعراض اور بے اعتنائی کو اپنا معمول بنا لیا تھا، اس لیے ہر نئی آیت ان کے لیے صرف ان کی ضد میں اضافے کا سبب بنتی تھی، نہ کہ ہدایت کا ذریعہ۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں — آسمان و زمین کی تخلیق، رات اور دن کی آمد و رفت، بارش کا نزول، اور پھر اس سے زمین کا سرسبز ہونا — یہ سب اس کی قدرت کے کھلے نشان ہیں۔ لیکن افسوس! ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو ان نشانیوں پر غور کرتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو قرآن کی آیات کو پڑھ کر ان پر عمل کرتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ عطا کی ہے تاکہ ہم ان نشانیوں سے سبق حاصل کریں۔ آئیے ہم ان لوگوں میں سے نہ بنیں جو حق کے سامنے آنے پر منہ موڑ لیتے ہیں، بلکہ ہم وہ بنیں جو ہر نشانی کو غور سے دیکھتے ہیں، ہر آیت کو دل سے سنتے ہیں، اور اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، جو لوگ حق سے اعراض کرتے ہیں، وہ آخرت میں پشیمان ہوں گے، لیکن جو لوگ ہدایت قبول کرتے ہیں، ان کے لیے رب کے ہاں عظیم اجر اور کامیابی ہے۔ اللہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 44-48 — یس
ترجمہ — یس 46
سورہ آیت 46/83 — یس يس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یس سنیں, یس ترجمہ, یس mp3, یس pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








