ترجمہ — Tafsir
دُحُورًا: یعنی دھتکار کر بھگا دینا، دور کر دینا۔ یہ لفظ "دَحْر" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے طرد کرنا اور دور بھگا دینا۔
وَاصِبٌ: یعنی دائمی، جو کبھی ختم نہ ہونے والا ہو، مسلسل اور ہمیشہ رہنے والا۔
یہ آیت کریمہ اس حقیقت کو بیان فرما رہی ہے کہ شیاطین کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچنے اور وہاں کی پوشیدہ باتوں کو سننے کی کوئی اجازت نہیں۔ جب وہ چوری چھپے اوپر جانے اور فرشتوں کی گفتگو سننے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں ہر طرف سے شہاب ثاقب (آگ کے گولے) مار کر بھگا دیا جاتا ہے۔ یہ ان کے لیے ذلت اور رسوائی کا باعث ہے کہ وہ اللہ کے رازوں سے جھانکنے کی جسارت کرتے ہیں تو انہیں فوراً دھتکار دیا جاتا ہے۔
اور پھر آخرت میں ان کے لیے ایک اور سزا مقرر ہے، وہ ہے "عذاب واصب" یعنی دائمی اور مسلسل عذاب جو کبھی ختم نہ ہوگا، نہ اس میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔ یہ عذاب ان کی سرکشی اور اللہ کے دشمنوں کی پیروی کرنے والوں کو گمراہ کرنے کی سزا ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنے بندوں کی حفاظت خود فرماتا ہے۔ جس طرح شیاطین کو آسمانی رازوں سے دور رکھا گیا، اسی طرح اللہ اپنے نیک بندوں کو شیطان کے وسوسوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے جب وہ اس کی پناہ مانگتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگیں اور شیطان کے شر سے بچنے کی دعا کریں، کیونکہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اور وہ ہمیں گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ لیکن جو لوگ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں، اللہ انہیں شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھتا ہے اور انہیں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
📜 آیت 7-11 — صافات
ترجمہ — صافات 9
سورہ صافات آیت 9 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی وہاں سے) نکال دینے کو اور ان کے لئے…سورہ آیت 9/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








