ترجمہ — Tafsir
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
معانی الفاظ:
- عِزَّةٍ: تکبر، غرور اور حق قبول کرنے سے انکار۔
- شِقَاقٍ: مخالفت، عداوت اور ضد۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا حال بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے حق کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ یہ کافر لوگ درحقیقت اپنے تکبر اور غرور کی وجہ سے ایمان لانے سے محروم رہے۔ ان کی یہ "عزت" دراصل ذلت ہے، کیونکہ وہ اپنے اس تکبر کی وجہ سے ہدایت سے محروم ہو گئے۔ ساتھ ہی وہ نبی کریم ﷺ کی مخالفت اور دشمنی میں مبتلا تھے، ان کا یہ رویہ ان کی شقاق (عداوت) کا ثبوت تھا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی دو صفات بیان کی ہیں: ایک تکبر جو انہیں حق قبول کرنے سے روکتا ہے، اور دوسری عداوت جو انہیں نبی ﷺ کے خلاف اکساتی ہے۔ یہ دونوں صفات انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ تکبر اور ضد انسان کو ہدایت سے محروم کر دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ تکبر کرتے ہیں وہ کبھی جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ حق کو قبول کریں، چاہے وہ کسی سے بھی آئے، اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے، ان کے لیے جنت ہے، اور جو تکبر کریں گے ان کے لیے جہنم۔ آئیے ہم اپنے دلوں سے تکبر نکال کر عاجزی اختیار کریں، کیونکہ عاجزی ہی وہ صفت ہے جو اللہ کے نزدیک محبوب ہے۔
📜 آیت 1-4 — ص
ترجمہ — ص 2
سورہ ص آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں…سورہ آیت 2/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








