ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سِخْرِیًا: مذاق، استہزاء، ٹھٹھا۔
- زَاغَت: ہٹ گئی، پھر گئی۔
- اَبْصَار: آنکھیں، نگاہیں۔
تفسیر:
یہ آیت اس گفتگو کا حصہ ہے جو جہنم میں داخل ہونے والے کافر اور سرکش لوگ آپس میں کریں گے۔ وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: "ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم اپنے ساتھ جہنم میں ان لوگوں کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم دنیا میں برے اور گمراہ سمجھتے تھے؟ کیا ہم نے انہیں ٹھٹھے اور مذاق کا نشانہ بنا کر غلطی کی تھی؟ کیا حقیقت میں وہ اچھے لوگ تھے اور ہم نے انہیں برا سمجھ کر حقیر جانا تھا؟ یا پھر وہ واقعی ہمارے ساتھ جہنم میں موجود ہیں، لیکن ہماری آنکھیں انہیں دیکھ نہیں پا رہیں؟"
یہ افسوسناک منظر ہے کہ دنیا میں یہ لوگ اہل ایمان کا مذاق اڑاتے تھے، انہیں ذلیل و خوار سمجھتے تھے اور ان پر ہنستے تھے، مگر آخرت میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گا۔ وہ حیران و پریشان ہوں گے کہ جنہیں ہم دنیا میں کمتر سمجھتے تھے، وہ آج کہاں ہیں؟ یہ ان کے لیے باعثِ عذاب اور ندامت ہو گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں کسی بھی انسان کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، چاہے وہ ہماری نظر میں کتنا ہی کمزور، غریب یا گمراہ کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں معیار تقویٰ اور ایمان ہے، نہ کہ دنیاوی حیثیت۔ جو لوگ آج ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں، کل آخرت میں انہیں اپنی اس حرکت پر پشیمانی ہوگی۔ ہمیں چاہیے کہ ہر مسلمان کا احترام کریں، کسی کو کمتر نہ سمجھیں، اور یاد رکھیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ یہ آیت ہمیں اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنے اور اپنے رویوں کو درست کرنے کی دعوت دیتی ہے تاکہ ہم آخرت میں ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو اپنے انجام پر افسوس کریں گے۔
📜 آیت 61-65 — ص
ترجمہ — ص 63
سورہ ص آیت 63 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری)…سورہ آیت 63/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 61–65. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








