ص · 64/88
ترجمہ تلفظ — ص
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ ۝٦٤
Inna zaalika lahaqqun takhaasumu Ahlin Naar
📖 اردو ترجمہ
بےشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَحَقٌّ: یقینی، سچ، جس میں کوئی شک و شبہ نہ ہو۔
  • تَخَاصُمُ: آپس میں جھگڑا کرنا، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنا۔
  • أَهْلِ النَّارِ: دوزخ میں جانے والے لوگ، یعنی کافر اور گنہگار۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تسلی اور اطمینان دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے آپ کو بتایا ہے کہ دوزخ کے لوگ آپس میں جھگڑیں گے، ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے، اور ہر ایک دوسرے کو اپنی گمراہی کا ذمہ دار قرار دے گا، یہ بات قطعی طور پر سچ ہے، اس میں کوئی شک، شبہ یا تردد نہیں۔ یہ کوئی خیالی یا فرضی بات نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جو قیامت کے دن پیش آئے گی۔

یہ تخاصم اس وقت ہوگا جب دوزخ کے اندر سردار اور پیروکار، کمزور اور بڑے، سب ایک دوسرے کو لعنت ملامت کریں گے۔ جو لوگ دنیا میں دوسروں کو گمراہ کرتے تھے، وہ اپنے پیروکاروں سے کہیں گے کہ تم خود اپنے اختیار سے ہمارے پیچھے آئے تھے، اور پیروکار جواب دیں گے کہ تم نے ہمیں بہکایا تھا۔ اس طرح وہ ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے، لیکن یہ جھگڑا انہیں عذاب سے نہیں بچا سکے گا، بلکہ ان کا عذاب اور بڑھ جائے گا۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے "لَحَقٌّ" کا لفظ استعمال فرما کر اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ واقعہ یقینی طور پر رونما ہونے والا ہے، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اس کی خبر ہمیشہ صادق ہوتی ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں، کوئی افسانہ نہیں، بلکہ یہ برحق حقیقت ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جو ہمیں اس جھگڑے اور عذاب کی طرف لے جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کا آج ہی محاسبہ کر لیں، کیونکہ کل قیامت کے دن پشیمانی اور جھگڑا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے راستہ دکھا دیا ہے، اور ہمیں اختیار دیا ہے کہ ہم جنت کا راستہ چنیں یا دوزخ کا۔ آج اگر ہم اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت پر لگائیں، تو کل ہم اس جھگڑے اور عذاب سے محفوظ رہیں گے، اور اس کے برعکس اگر ہم دنیا کی خاطر آخرت کو بھول گئے، تو پھر یہی انجام ہمارا منتظر ہے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 62-66 — ص

62وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ الْأَشْرَارِ
اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بروں میں شمار کرتے تھے
63أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ
کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں؟
64إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
بےشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے
65قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ ۖ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں۔ اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں
66رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا
صقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
64آیت

ترجمہ — ص 64

سورہ ص آیت 64 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بےشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے

سورہ آیت 64/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 62–66. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں