Wa yastaftoonaka finnisaaa`i qulil laahu yufteekum feehinna wa maa yutlaa `alaikum fil Kitaabi fee yataaman nisaaa`il laatee laa tu`toonahunna mmaa kutiba lahunnna wa targhaboona an tankihoohunna wal mustad`a feena minal wildaani wa an taqoomoo lilyataamaa bilqist; wa maa taf`aloo min khairin fa innal laaha kaana bihee `Aleemaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از تو درباره زنان فتوى مىخواهند، بگو: خدا درباره آنان به آنچه در اين كتاب بر شما خوانده مىشود، فتوى داده است. اين فتوى در باب آنها و زنان پدرمردهاى است كه حق مقررشان را نمىپردازيد و مىخواهيد ايشان را به نكاح خود درآوريد و نيز در باب كودكان ناتوان است. و بايد كه درباره يتيمان به عدالت رفتار كنيد، و هر كار نيكى كه انجام مىدهيد خدا به آن آگاه است.
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَسْتَفْتُونَكَ: آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، یعنی شرعی حکم دریافت کرتے ہیں۔
يُفْتِيكُمْ: تمہیں حکم بتاتا ہے۔
يَتَامَى النِّسَاءِ: یتیم لڑکیاں (جن کے والد فوت ہو چکے ہوں)۔
لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ: تم انہیں وہ حق نہیں دیتے جو اللہ نے ان کے لیے مقرر کیا ہے (جیسے مہر، وراثت)۔
تَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ: تم ان سے نکاح کرنے کی خواہش رکھتے ہو (یا اس سے رغبت نہیں رکھتے)۔
الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ: کمزور بچے (جنہیں حق نہیں دیا جاتا)۔
بِالْقِسْطِ: انصاف کے ساتھ۔
تفسیر:
اے نبی! لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں احکام دریافت کرتے ہیں۔ آپ انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ خود ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے، اور وہ احکام بھی جو کتابِ الٰہی (قرآن) میں ان پر پڑھے جاتے ہیں، ان کا حکم دیتے ہیں۔ یہ احکام خاص طور پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں ہیں جنہیں تم ان کے مقررہ حقوق (جیسے مہر، وراثت اور دیگر جائز حقوق) نہیں دیتے، اور ان سے نکاح کرنے کی خواہش رکھتے ہو (اگر وہ خوبصورت ہوں اور مالدار ہوں) یا ان سے نکاح کرنے سے رغبت نہیں رکھتے (اگر وہ غریب یا کمزور ہوں)۔ اللہ تمہیں کمزور بچوں کے بارے میں بھی حکم دیتا ہے کہ ان کے حقوق ادا کرو، اور یہ بھی حکم دیتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ مکمل انصاف کرو، ان پر ظلم نہ کرو اور ان کے مال و حقوق میں کمی نہ کرو۔ یاد رکھو! تم جو بھی نیکی کرو گے، اللہ اسے خوب جانتا ہے اور اس کا اجر تمہیں ضرور دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کمزور طبقات — یتیم لڑکیوں، بچوں اور مظلوموں — کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ یہ اسلام کا وہ حسین پہلو ہے جو عدل و انصاف اور رحمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ جس طرح ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، اسی طرح دوسروں کے حقوق بھی ادا کریں، خاص کر ان کا جو خود بول نہ سکیں یا کمزور ہوں۔ یہی تقویٰ اور نیکی کا معیار ہے۔ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر نیکی کا بدلہ وہ خود دے گا، چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ آئیے ہم اپنے معاشرے میں یتیموں، بیواؤں اور کمزوروں کے حقوق کا خیال رکھیں، کیونکہ یہی اللہ کی پسندیدہ نیکی ہے، اور اس کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہے۔
اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
اور تم خوا کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر ہوا میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔