نساء · 128/176
ترجمہ تلفظ — نساء
وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ۝١٢٨
Wa inimra atun khaafat mim ba`lihaa nushoozan aw i`raadan falaa junaaha `alaihi maaa ai yuslihaa bainahumaa sulhaa; wassulhu khair; wa uhdiratil anfusush shuhh; wa in tuhsinoo wa tattaqoo fa innal laaha kaana bimaa ta`maloona Khabeeraa
📖 اردو ترجمہ
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نُشُوزًا: بیزاری، نفرت، یا حق نہ دینا۔
  • إِعْرَاضًا: منہ پھیر لینا، بے توجہی، یا حق ادا نہ کرنا۔
  • صُلْحًا: صلح، باہمی رضامندی سے معاملہ طے کرنا۔
  • الشُّحَّ: بخل، کنجوسی، حرص (یہاں مراد نفس کا اپنے حق پر جما رہنا ہے

تفسیر:

یہ آیت کریمہ ازدواجی زندگی کے ایک نازک پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔ جب کوئی عورت اپنے شوہر سے محسوس کرے کہ وہ اس سے بیزار ہے، اس کی طرف سے منہ موڑ رہا ہے، یا اس کے حقوق (نفقه، رات کی تقسیم، حسن سلوک) میں کوتاہی کر رہا ہے، تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے دونوں میاں بیوی کو اجازت دی ہے کہ وہ آپس میں صلح کر لیں۔ یہ صلح اس طرح ہو سکتی ہے کہ عورت اپنے کچھ حقوق (جیسے نفقه یا رات کی باری) میں سے کچھ چھوڑ دے، تاکہ شوہر اسے رکھے رکھے اور طلاق نہ ہو۔ اس پر کوئی گناہ نہیں، بلکہ یہ صلح طلاق سے بہتر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک اہم حقیقت بیان فرمائی کہ انسانی نفوس میں بخل اور حرص فطری طور پر موجود ہے، ہر شخص اپنے حق پر جما رہنا چاہتا ہے۔ لیکن جب محبت اور خاندانی بندھن کی بقا کا سوال ہو، تو دونوں کو چاہیے کہ اپنے نفس کی اس خواہش کو دبا کر ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کریں۔ یہی اصل تقویٰ ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، اور اللہ سے ڈرتے ہوئے انصاف کرو، تو یاد رکھو کہ اللہ تمہارے تمام اعمال سے خوب واقف ہے، اور وہ تمہیں تمہارے نیک اعمال کا بھرپور بدلہ دے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں اسلام کی خوبصورت تعلیم ملتی ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ گھریلو معاملات میں بھی رحمت، نرمی اور مصلحت کا درس دیتا ہے۔ اسلام نے عورت کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اس نے مشکلات میں آسانی اور نرمی کا راستہ بھی دکھایا ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ طلاق آخری حل ہے، پہلے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ گھر آباد رہے۔ اللہ تعالیٰ صلح کو پسند کرتا ہے، اور جو لوگ اپنے گھروں میں امن و سکون قائم رکھنے کے لیے قربانی دیتے ہیں، اللہ انہیں بہترین جزا عطا فرمائے گا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں میں محبت، ایثار اور درگزر کا ماحول بنائیں، کیونکہ یہی ایمان کی نشانی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 126-130 — نساء

126وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطًا
اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے
127وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَن تَقُومُوا لِلْيَتَامَىٰ بِالْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
128وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
129وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا
اور تم خوا کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر ہوا میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
130وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا
اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
128آیت

ترجمہ — نساء 128

سورہ نساء آیت 128 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے…

سورہ آیت 128/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 126–130. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں