Wa inimra atun khaafat mim ba`lihaa nushoozan aw i`raadan falaa junaaha `alaihi maaa ai yuslihaa bainahumaa sulhaa; wassulhu khair; wa uhdiratil anfusush shuhh; wa in tuhsinoo wa tattaqoo fa innal laaha kaana bimaa ta`maloona Khabeeraa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر زنى دريافت كه شوهرش با او بىمهر و از او بيزار شده است، باكى نيست كه هر دو در ميان خود طرح آشتى افكنند، كه آشتى بهتر است. و بخل و فرومايگى بر نفوس مردم غلبه دارد. و اگر نيكى و پرهيزگارى كنيد خدا به هر چه مىكنيد آگاه است.
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نُشُوزًا: بیزاری، نفرت، یا حق نہ دینا۔
إِعْرَاضًا: منہ پھیر لینا، بے توجہی، یا حق ادا نہ کرنا۔
صُلْحًا: صلح، باہمی رضامندی سے معاملہ طے کرنا۔
الشُّحَّ: بخل، کنجوسی، حرص (یہاں مراد نفس کا اپنے حق پر جما رہنا ہے)۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ازدواجی زندگی کے ایک نازک پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔ جب کوئی عورت اپنے شوہر سے محسوس کرے کہ وہ اس سے بیزار ہے، اس کی طرف سے منہ موڑ رہا ہے، یا اس کے حقوق (نفقه، رات کی تقسیم، حسن سلوک) میں کوتاہی کر رہا ہے، تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے دونوں میاں بیوی کو اجازت دی ہے کہ وہ آپس میں صلح کر لیں۔ یہ صلح اس طرح ہو سکتی ہے کہ عورت اپنے کچھ حقوق (جیسے نفقه یا رات کی باری) میں سے کچھ چھوڑ دے، تاکہ شوہر اسے رکھے رکھے اور طلاق نہ ہو۔ اس پر کوئی گناہ نہیں، بلکہ یہ صلح طلاق سے بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک اہم حقیقت بیان فرمائی کہ انسانی نفوس میں بخل اور حرص فطری طور پر موجود ہے، ہر شخص اپنے حق پر جما رہنا چاہتا ہے۔ لیکن جب محبت اور خاندانی بندھن کی بقا کا سوال ہو، تو دونوں کو چاہیے کہ اپنے نفس کی اس خواہش کو دبا کر ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کریں۔ یہی اصل تقویٰ ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، اور اللہ سے ڈرتے ہوئے انصاف کرو، تو یاد رکھو کہ اللہ تمہارے تمام اعمال سے خوب واقف ہے، اور وہ تمہیں تمہارے نیک اعمال کا بھرپور بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں اسلام کی خوبصورت تعلیم ملتی ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ گھریلو معاملات میں بھی رحمت، نرمی اور مصلحت کا درس دیتا ہے۔ اسلام نے عورت کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اس نے مشکلات میں آسانی اور نرمی کا راستہ بھی دکھایا ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ طلاق آخری حل ہے، پہلے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ گھر آباد رہے۔ اللہ تعالیٰ صلح کو پسند کرتا ہے، اور جو لوگ اپنے گھروں میں امن و سکون قائم رکھنے کے لیے قربانی دیتے ہیں، اللہ انہیں بہترین جزا عطا فرمائے گا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں میں محبت، ایثار اور درگزر کا ماحول بنائیں، کیونکہ یہی ایمان کی نشانی ہے۔
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
اور تم خوا کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر ہوا میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔