غافر · 24/85
ترجمہ تلفظ — غافر
إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَقَٰرُونَ فَقَالُواْ سَٰحِرٌ كَذَّابٌ  ۝٢٤
Ilaa Fir`awna wa Haamaana qa Qaaroona faqaaloo saahirun kazzaab
📖 اردو ترجمہ
(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فرعون: مصر کا بادشاہ، جو اپنی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے مشہور تھا۔
  • هامان: فرعون کا وزیر اور اس کا قریبی ساتھی، جو اس کے مظالم میں شریک تھا۔
  • قارون: ایک دولت مند شخص، جو بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن اپنی دولت کے گھمنڈ میں فرعون کا حامی بن گیا تھا۔
  • ساحر: جادوگر، شعبدہ باز۔
  • کذاب: بہت بڑا جھوٹا، جو جھوٹ بولنے میں مشہور ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی رسالت کے ساتھ فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا۔ یہ تینوں اس وقت مصر کے سب سے طاقتور اور بااثر لوگ تھے۔ فرعون بادشاہ تھا، ہامان اس کا وزیر اور قارون دولت و ثروت کا مالک۔ اللہ نے ان تینوں کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ کفر اور سرکشی کے مرکز تھے، اور ان کی مخالفت ہی سب سے بڑی آزمائش تھی۔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور اپنی رسالت کا اعلان کیا، تو انہوں نے حق کو قبول کرنے کے بجائے تکبر اور انکار کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر اور جھوٹا کہہ کر ان کی دعوت کو بے اثر کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیٰ اپنے معجزات (جیسے عصا کا سانپ بننا) سے لوگوں کو جادو کر رہا ہے، اور یہ کہ وہ جھوٹا ہے جو اللہ کی طرف سے آنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

یہ طرز عمل ہر دور کے ظالموں اور متکبروں کا رہا ہے کہ جب ان کے پاس حق آتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے بجائے الزام تراشی کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام کو عبرت بنا دیا، چنانچہ فرعون اور ہامان کو دریا میں غرق کیا گیا، اور قارون کو اس کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق کو قبول کرنے میں تکبر اور ضد نہیں کرنی چاہیے۔ جو لوگ اپنی طاقت، دولت یا عہدے کے گھمنڈ میں حق کو جھٹلاتے ہیں، وہ آخرت میں ذلیل و رسوا ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، اور جب بھی حق ہمارے سامنے آئے تو اسے کھلے دل سے قبول کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی مدد انہیں حاصل ہوتی ہے جو حق پر قائم رہتے ہیں، چاہے دنیا کی طاقتیں ان کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 22-26 — غافر

22ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانَت تَّأۡتِيهِمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَكَفَرُواْ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ قَوِيٌّ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ 
یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو خدا نے ان کو پکڑ لیا۔ بےشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے
23وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلۡطَٰنٍ مُّبِينٍ 
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا
24إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَقَٰرُونَ فَقَالُواْ سَٰحِرٌ كَذَّابٌ 
(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
25فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡحَقِّ مِنۡ عِندِنَا قَالُواْ ٱقۡتُلُوٓاْ أَبۡنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ وَٱسۡتَحۡيُواْ نِسَآءَهُمۡۚ وَمَا كَيۡدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٍ 
غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں
26وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُونِيٓ أَقۡتُلۡ مُوسَىٰ وَلۡيَدۡعُ رَبَّهُۥٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمۡ أَوۡ أَن يُظۡهِرَ فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡفَسَادَ 
اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے
غافرقرآن فہرست
85آیت
مکیRevelation
24آیت

ترجمہ — غافر 24

سورہ آیت 24/85 — غافر غافر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: غافر سنیں, غافر ترجمہ, غافر mp3, غافر pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں