ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فرعون: مصر کا بادشاہ، جو اپنی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے مشہور تھا۔
- هامان: فرعون کا وزیر اور اس کا قریبی ساتھی، جو اس کے مظالم میں شریک تھا۔
- قارون: ایک دولت مند شخص، جو بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن اپنی دولت کے گھمنڈ میں فرعون کا حامی بن گیا تھا۔
- ساحر: جادوگر، شعبدہ باز۔
- کذاب: بہت بڑا جھوٹا، جو جھوٹ بولنے میں مشہور ہو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی رسالت کے ساتھ فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا۔ یہ تینوں اس وقت مصر کے سب سے طاقتور اور بااثر لوگ تھے۔ فرعون بادشاہ تھا، ہامان اس کا وزیر اور قارون دولت و ثروت کا مالک۔ اللہ نے ان تینوں کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ کفر اور سرکشی کے مرکز تھے، اور ان کی مخالفت ہی سب سے بڑی آزمائش تھی۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور اپنی رسالت کا اعلان کیا، تو انہوں نے حق کو قبول کرنے کے بجائے تکبر اور انکار کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر اور جھوٹا کہہ کر ان کی دعوت کو بے اثر کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیٰ اپنے معجزات (جیسے عصا کا سانپ بننا) سے لوگوں کو جادو کر رہا ہے، اور یہ کہ وہ جھوٹا ہے جو اللہ کی طرف سے آنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
یہ طرز عمل ہر دور کے ظالموں اور متکبروں کا رہا ہے کہ جب ان کے پاس حق آتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے بجائے الزام تراشی کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام کو عبرت بنا دیا، چنانچہ فرعون اور ہامان کو دریا میں غرق کیا گیا، اور قارون کو اس کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق کو قبول کرنے میں تکبر اور ضد نہیں کرنی چاہیے۔ جو لوگ اپنی طاقت، دولت یا عہدے کے گھمنڈ میں حق کو جھٹلاتے ہیں، وہ آخرت میں ذلیل و رسوا ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، اور جب بھی حق ہمارے سامنے آئے تو اسے کھلے دل سے قبول کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی مدد انہیں حاصل ہوتی ہے جو حق پر قائم رہتے ہیں، چاہے دنیا کی طاقتیں ان کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔
📜 آیت 22-26 — غافر
ترجمہ — غافر 24
سورہ آیت 24/85 — غافر غافر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: غافر سنیں, غافر ترجمہ, غافر mp3, غافر pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








