یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
دَأْبِ: عادت، طریقہ، حال۔
قَوْمِ نُوحٍ: حضرت نوح علیہ السلام کی قوم۔
عَادٍ: قومِ عاد، جو حضرت ہود علیہ السلام کی قوم تھی۔
ثَمُودَ: قومِ ثمود، جو حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی۔
ظُلْمًا: کسی پر ناحق زیادتی یا سزا۔
تفسیرِ آیہ:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کافروں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کا انجام بھی اسی طرح ہوگا جیسے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم، جو طوفان میں غرق کردی گئی، قومِ عاد جو تیز و تند آندھی سے ہلاک ہوئی، قومِ ثمود جو زلزلے اور چیخ سے تباہ ہوئی، اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جنہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا اور اللہ کے احکام سے سرتابی کی، سب کو ان کے کفر اور تکذیب کی پاداش میں عذاب کا سامنا کرنا پڑا۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا، وہ کسی کو بغیر گناہ کے سزا نہیں دیتا۔ جو عذاب بھی آتا ہے، وہ خود لوگوں کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اللہ کی عدالت کامل ہے، وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دیتا ہے، نہ کسی پر ذرہ برابر ظلم کرتا ہے اور نہ کسی کی نیکی کو ضائع کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عدل دونوں کا پہلو نمایاں ہے۔ ایک طرف وہ اپنے بندوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ پچھلی قوموں کا انجام دیکھ کر عبرت حاصل کرو، اور دوسری طرف یہ اطمینان دلاتا ہے کہ اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا۔ یہ بات ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ہمارا رب عادل ہے، وہ ہماری چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اگر ہم اس کی اطاعت کریں اور اس کے رسولوں کی پیروی کریں، تو ہم اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی، قرآن دیا، اور رسول بھیجے تاکہ ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ پس ہمیں چاہیے کہ ان نعمتوں کی قدر کریں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہی ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور توبہ قبول کرتا ہے۔
اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے
جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے دن سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔