اور جو لوگ آگ میں (جل رہے) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
خَزَنَةِ جَهَنَّمَ: جہنم کے داروغے اور فرشتے جو اس کے محافظ ہیں۔
یُخَفِّفْ: ہلکا کر دے، کم کر دے۔
یَوْمًا: ایک دن کے برابر مدت۔
تفسیر:
جب جہنم کی آگ اپنی پوری شدت کے ساتھ اہلِ نار کو گھیر لے گی اور عذاب کی ہولناکیاں ان پر ٹوٹ پڑیں گی، تو وہاں موجود تمام لوگ—خواہ وہ بڑے مستکبر ہوں یا کمزور پیروکار—اپنی بے بسی اور درماندگی کے عالم میں جہنم کے داروغوں (خازنوں) سے التجا کریں گے۔ وہ ان سے کہیں گے: "تم اللہ کے خاص فرشتے ہو، ہماری طرف سے اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہمارے عذاب میں سے کچھ حصہ کم کر دے، چاہے صرف ایک دن کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔" یہ ایک انتہائی افسوسناک منظر ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں اللہ کی عبادت اور اس کی دعا سے منہ موڑا تھا، آج عذاب کی شدت میں خود دعا کرنے کی بجائے فرشتوں سے سفارش طلب کر رہے ہیں۔ لیکن یہ درخواست بھی ان کے لیے کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ اللہ کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے اور اس کا عذاب دائمی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیتِ کریمہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کا دروازہ دنیا میں کھلا ہوا ہے، لیکن جب وہاں سے گزر جائے گا تو پھر کوئی سفارش یا درخواست قبول نہیں ہوگی۔ آج ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے رب سے خود دعا کرے، اس کی رحمت کو اپنے اوپر نازل کرنے کی التجا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے، وہ اپنے بندوں کی دعا سنتا ہے اور ان کی پکار پر لبیک کہتا ہے۔ ہمیں اس عظیم نعمت سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو ہمیں دنیا میں ملی ہے—یہ کہ ہم ابھی زندہ ہیں اور ہمارے پاس توبہ اور دعا کا موقع ہے۔ اللہ ہمیں اس موقع سے محروم نہ کرے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے۔ آمین۔
اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو؟
وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے۔ وہ کہیں گے کیوں نہیں تو وہ کہیں گے کہ تم ہی دعا کرو۔ اور کافروں کی دعا (اس روز) بےکار ہوگی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔