ترجمہ — Tafsir
یومِ حساب میں ظالموں کے معذرتیں پیش کرنا انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، چاہے وہ کتنے ہی بہانے بنا لیں، ان کے عذر قبول نہیں کیے جائیں گے۔ ان کے لیے اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ہے، اور ان کے لیے آخرت کا بدترین انجام ہے جو جہنم کی شدید عذاب کی صورت میں سامنے آئے گا۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کرنے والوں کے پاس قیامت کے دن کوئی بچاؤ کا ذریعہ نہیں ہوگا۔ ان کے معذرتیں، چاہے وہ کتنے ہی معقول کیوں نہ لگیں، اللہ کے ہاں قطعاً قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، اس کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اپنے نفس پر ظلم کیا۔ ان کے لیے اللہ کی لعنت ہے یعنی وہ رحمتِ الٰہی سے محروم ہیں، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑی نصیحت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ظلم سے بچیں، چاہے وہ ظلم اللہ کے حقوق میں ہو یا بندوں کے حقوق میں۔ آج ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے بہانے ہمیں بچا لیں گے، لیکن قیامت کے دن اللہ کے ہاں کوئی بہانہ کام نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی دی ہے تاکہ ہم اس کی عبادت کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ اگر ہم نے ظلم کیا تو ہمیں اس کا نتیجہ بھگتنا ہوگا، لیکن اگر ہم نے توبہ کی اور اپنے اعمال درست کر لیے تو اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو ظلم سے پاک کریں اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں، کیونکہ اللہ کی رحمت انہیں لوگوں کے لیے ہے جو ظلم سے بچتے ہیں اور نیکی کی راہ اختیار کرتے ہیں۔
📜 آیت 50-54 — غافر
ترجمہ — غافر 52
سورہ آیت 52/85 — غافر غافر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: غافر سنیں, غافر ترجمہ, غافر mp3, غافر pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








