خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل وانصاف کی) ترازو۔ اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آ پہنچی ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ وہ ذات ہے جس نے کتاب (قرآن) کو حق کے ساتھ نازل کیا اور میزان (عدل) کو بھی اتارا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ شاید قیامت قریب ہی ہو۔
معانی الفاظ:
الْكِتَابَ: قرآن کریم اور تمام آسمانی کتب۔
بِالْحَقِّ: سچائی اور صداقت کے ساتھ، جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
وَالْمِيزَانَ: عدل و انصاف، یعنی وہ معیار جس سے حق و باطل میں تمیز کی جائے۔
السَّاعَةَ: قیامت کا دن، جب تمام مخلوقات کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
قَرِيبٌ: نزدیک، قریب الوقوع۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے قرآن مجید اور تمام آسمانی کتابیں حق کے ساتھ نازل فرمائیں، یعنی ان کی تعلیمات میں کوئی کجی، تحریف یا باطل نہیں۔ نیز اس نے میزان یعنی عدل و انصاف کو بھی اتارا، تاکہ لوگوں کے درمیان فیصلے انصاف پر مبنی ہوں اور معاشرے میں برابری اور حق کا قیام ہو۔ یہ دونوں چیزیں (کتاب اور میزان) اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں جو انسانیت کی رہنمائی کے لیے اتاری گئیں۔
پھر فرمایا: "اور آپ کو کیا معلوم کہ شاید قیامت قریب ہی ہو؟" یعنی اے نبی! آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ قیامت کب آئے گی، لیکن یہ یقینی ہے کہ جو آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ ہر انے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے، چاہے وہ لمبی مدت کے بعد ہی کیوں نہ آئے۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ منکرینِ آخرت جو قیامت کو بعید سمجھتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کا وقوع پذیر ہونا یقینی ہے اور وہ قریب ہے، چاہے وہ اسے دور ہی کیوں نہ سمجھیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو عظیم نعمتوں کا ذکر کیا ہے: کتاب (ہدایت) اور میزان (عدل)۔ یہ دونوں انسانی زندگی کی اصلاح کے لیے نازل کی گئی ہیں۔ جب کوئی شخص ان دونوں کو اپنائے گا تو اس کی دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی۔ نیز قیامت کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن کے لیے تیاری کی تلقین کر رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو کتاب اللہ اور عدل و انصاف کے مطابق ڈھالیں، اور قیامت کے دن کو ہمیشہ یاد رکھیں تاکہ ہم نیک اعمال کی طرف راغب ہوں اور برائیوں سے بچیں۔ یہ آیت مومنین کے لیے بشارت ہے کہ اللہ نے انہیں ہدایت اور انصاف کا راستہ دکھایا ہے، اور منکرین کے لیے تنبیہ ہے کہ قیامت قریب ہے، اس لیے اس پر ایمان لائیں اور عمل صالح کریں۔
تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے۔ دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔