ترجمہ — Tafsir
تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِن فَوْقِهِنَّ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
معانی الفاظ:
- يَتَفَطَّرْنَ: پھٹ جائیں، شگافتہ ہو جائیں۔
- مِن فَوْقِهِنَّ: ایک آسمان کے اوپر دوسرے آسمان کا پھٹ جانا، یعنی ہر آسمان اپنے اوپر والے آسمان سے متاثر ہو کر پھٹنے لگے۔
- يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ: اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔
- يَسْتَغْفِرُونَ: بخشش طلب کرتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت کا یہ عالم ہے کہ آسمان اپنی بڑائی، بلندی اور سختی کے باوجود اس کے خوف اور ہیبت سے پھٹنے لگتے ہیں۔ جب مشرکین نے یہ جرات کی کہ اللہ کی اولاد ہے، تو یہ بات اتنی سنگین تھی کہ آسمان اس سے لرز گئے اور قریب آگیا کہ وہ اوپر سے نیچے تک شگافتہ ہو جائیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ کی ذات و صفات کس قدر عظیم ہیں، اور اس کے بارے میں کوئی نامناسب بات کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔
اس کے برعکس فرشتے ہمیشہ اللہ کی تسبیح و تحمید میں مصروف رہتے ہیں، وہ اسے ہر عیب اور نقص سے پاک بیان کرتے ہیں اور اپنے رب کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ زمین والوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، خاص طور پر اہل ایمان کے لیے۔ یہ فرشتوں کا حسنِ سلوک ہے کہ وہ بنی نوع انسان کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں، حالانکہ انسان اپنے اعمال سے اللہ کے غضب کا باعث بنتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی صفاتِ حمیدہ بیان فرماتا ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے، یعنی وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے۔ یہ ایک بشارت ہے کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت اس کی عظمت و جلال کے ساتھ ساتھ اس کی شان کا لازمی حصہ ہے، اور وہ اپنے توبہ کرنے والے بندوں کو معاف کرنے پر قادر ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں اللہ کی عظمت کا احساس دلاتی ہے کہ اس کی ہیبت سے آسمان پھٹنے لگتے ہیں، پھر بھی وہ اپنے بندوں پر رحمت کرنے والا ہے۔ یہ اللہ کی محبت اور شفقت کا کمال ہے کہ وہ اتنا عظیم ہونے کے باوجود اپنے بندوں کی مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی عظمت کا خوف دل میں رکھیں، لیکن اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے۔ فرشتوں کی دعاؤں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے نیک بندے بھی انسانیت کی بھلائی چاہتے ہیں، لہٰذا ہمیں بھی اپنے بھائیوں کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اللہ کی رحمت کے طلب گار رہنا چاہیے۔
📜 آیت 3-7 — شوری
ترجمہ — شوری 5
سورہ شوری آیت 5 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے…سورہ آیت 5/53 — شوری الشورى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شوری سنیں, شوری ترجمہ, شوری mp3, شوری pdf. آیت 3–7. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








