Afara`ayta manit takhaza ilaahahoo hawaahu wa adal lahul laahu `alaa `ilminw wa khatama `alaa sam`ihee wa qalbihee wa ja`ala `alaa basarihee ghishaawatan famany yahdeehi mim ba`dil laah; afalaa tazakkaroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا آن كس را كه هوسش را چون خداى خود گرفت و خدا از روى علم گمراهش كرد و بر گوش و دلش مُهر نهاد و بر ديدگانش پرده افكند، ديدهاى؟ اگر خدا هدايت نكند چه كسى او را هدايت خواهد كرد؟ چرا پند نمىگيريد؟
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اِلٰہَہُ ہَوَاہُ: اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لینا۔
اَضَلَّہُ اللہُ عَلٰی عِلْمٍ: اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے علم کے باوجود (یا اپنے علمِ ازلی کی بنا پر) گمراہ کر دیا۔
خَتَمَ: مہر لگا دی، بند کر دیا۔
غِشَاوَۃً: پردہ، ڈھانپنے والی چیز۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟ یعنی جو کچھ اس کا دل چاہتا ہے، وہی اس کا حکم بن جاتا ہے، اور وہ اسی کی پیروی کرتا ہے، چاہے وہ حق کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہ وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم و حجت کے باوجود گمراہی میں چھوڑ دیا، کیونکہ اس نے خود ہدایت کو ٹھکرا دیا تھا۔ پھر اللہ نے اس کے کان پر مہر لگا دی کہ وہ نصیحتیں سنے مگر ان سے فائدہ نہ اٹھائے، اس کے دل پر پردہ ڈال دیا کہ وہ حق کو سمجھنے سے قاصر ہو جائے، اور اس کی آنکھوں پر غلاف رکھ دیا کہ وہ اللہ کی نشانیوں اور دلائل کو دیکھ کر بھی عبرت حاصل نہ کرے۔
اب بتائیے! جب اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس کی سرکشی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے گمراہی میں چھوڑ دیا، تو اسے اللہ کے سوا کون ہدایت دے سکتا ہے؟ کوئی نہیں! کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اپنی خواہشات کو معبود بنا لینا کس قدر تباہ کن ہے؟ کیا تم غور نہیں کرتے کہ جو شخص اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے، وہ اللہ کی رحمت سے کس طرح محروم ہو جاتا ہے؟
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک انتہائی اہم سبق دیتی ہے کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن ہمارا نفس اور اس کی خواہشات ہیں۔ اگر ہم نے اپنی خواہشات کو اپنا امام اور رہنما بنا لیا، تو ہم اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ہم اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کر لیں، تو اللہ ہمیں ہدایت کی راہ دکھائے گا اور ہماری آنکھوں سے حقائق کا پردہ ہٹا دے گا۔ یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم حق و باطل میں تمیز کریں۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ ہمیں اپنی خواہشات پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ان کی زندگی اور موت یکساں ہوگی۔ یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟
اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے۔ اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ صرف ظن سے کام لیتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔