اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و روزى كه كافران را بر آتش عرضه كنند: در زندگى دنيوى از چيزهاى پاكيزه و خوش بهرهمند شديد، امروز به عذاب خوارى پاداشتان مىدهند. و اين بدان سبب است كه در زمين بى هيچ حقى گردنكشى مىكرديد و عصيانگرى پيش گرفته بوديد.
طَیِّبَاتِكُمْ: تمہاری پاکیزہ اور لذیذ چیزیں، یعنی وہ نعمتیں اور خوشیاں جو تمہیں دنیا میں دی گئی تھیں۔
عَذَابَ الْهُونِ: ذلت اور رسوائی کا عذاب۔
تَسْتَكْبِرُونَ: تکبر کرتے تھے، بڑائی اور برتری کا دعویٰ کرتے تھے۔
تَفْسُقُونَ: حکم عدولی کرتے تھے، اللہ کی اطاعت سے نکل جاتے تھے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے اس ہولناک منظر کا ذکر فرما رہے ہیں جب کافروں کو جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ وہ اپنی آنکھوں سے اس آگ کو دیکھیں گے جس میں انہیں ڈالا جانا ہے، اور اس وقت انہیں ملامت اور سرزنش کے ساتھ کہا جائے گا: "کیا تم نے اپنی تمام پاکیزہ نعمتیں اور خوشیاں دنیا کی زندگی ہی میں ختم کر دیں؟ اور ان سے خوب لطف اندوز ہو گئے؟" یعنی تمہارے پاس جو کچھ تھا، سب کچھ تم نے اسی دنیا میں استعمال کر لیا، اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کی، اور آخرت کے لیے کچھ نہیں بھیجا۔
پھر فرمایا: "آج تمہیں ذلت اور رسوائی کا عذاب دیا جائے گا۔" یہ عذاب اس لیے ہے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے، حق کو قبول نہیں کرتے تھے، اور اللہ کی اطاعت سے نکل کر گناہوں اور معاصی میں مبتلا رہتے تھے۔ یہ عذاب تمہارے انہی اعمال کا بدلہ ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہترین سبق اور نصیحت ہے کہ ہم دنیا کی عارضی لذتوں میں غرق نہ ہوں۔ اللہ نے ہمیں جو نعمتیں دی ہیں، ان کا صحیح استعمال یہ ہے کہ ہم اپنے رب کی اطاعت کریں، اس کے احکام پر عمل کریں، اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزاریں۔ یاد رکھیں، یہ دنیا محض ایک امتحان گاہ ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ جو لوگ صرف دنیا کے لیے جیتے ہیں اور آخرت کو بھول جاتے ہیں، وہ قیامت کے دن پشیمان ہوں گے، لیکن پشیمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آئیے ہم اس نصیحت سے سبق حاصل کریں، اپنے رب کی عبادت کریں، اس کے رسول ﷺ کی پیروی کریں، اور اپنی آخرت سنوارنے کی فکر کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے
اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزرچکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔