احقاف · 20/35
ترجمہ تلفظ — احقاف
وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ ۝٢٠
Wa Yawma yu`radul lazeena kafaroo `alan Naai azhabtum taiyibaatikum fee hayaatikumud dunyaa wastam ta`tum bihaa fal Yawma tujzawna `azaabal hooni bimaa kuntum tastakbiroona fil ardi bighairil haqqi wa bimaa kuntum tafsuqoon
📖 اردو ترجمہ
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • طَیِّبَاتِكُمْ: تمہاری پاکیزہ اور لذیذ چیزیں، یعنی وہ نعمتیں اور خوشیاں جو تمہیں دنیا میں دی گئی تھیں۔
  • عَذَابَ الْهُونِ: ذلت اور رسوائی کا عذاب۔
  • تَسْتَكْبِرُونَ: تکبر کرتے تھے، بڑائی اور برتری کا دعویٰ کرتے تھے۔
  • تَفْسُقُونَ: حکم عدولی کرتے تھے، اللہ کی اطاعت سے نکل جاتے تھے۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے اس ہولناک منظر کا ذکر فرما رہے ہیں جب کافروں کو جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ وہ اپنی آنکھوں سے اس آگ کو دیکھیں گے جس میں انہیں ڈالا جانا ہے، اور اس وقت انہیں ملامت اور سرزنش کے ساتھ کہا جائے گا: "کیا تم نے اپنی تمام پاکیزہ نعمتیں اور خوشیاں دنیا کی زندگی ہی میں ختم کر دیں؟ اور ان سے خوب لطف اندوز ہو گئے؟" یعنی تمہارے پاس جو کچھ تھا، سب کچھ تم نے اسی دنیا میں استعمال کر لیا، اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کی، اور آخرت کے لیے کچھ نہیں بھیجا۔

پھر فرمایا: "آج تمہیں ذلت اور رسوائی کا عذاب دیا جائے گا۔" یہ عذاب اس لیے ہے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے، حق کو قبول نہیں کرتے تھے، اور اللہ کی اطاعت سے نکل کر گناہوں اور معاصی میں مبتلا رہتے تھے۔ یہ عذاب تمہارے انہی اعمال کا بدلہ ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمارے لیے ایک بہترین سبق اور نصیحت ہے کہ ہم دنیا کی عارضی لذتوں میں غرق نہ ہوں۔ اللہ نے ہمیں جو نعمتیں دی ہیں، ان کا صحیح استعمال یہ ہے کہ ہم اپنے رب کی اطاعت کریں، اس کے احکام پر عمل کریں، اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزاریں۔ یاد رکھیں، یہ دنیا محض ایک امتحان گاہ ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ جو لوگ صرف دنیا کے لیے جیتے ہیں اور آخرت کو بھول جاتے ہیں، وہ قیامت کے دن پشیمان ہوں گے، لیکن پشیمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آئیے ہم اس نصیحت سے سبق حاصل کریں، اپنے رب کی عبادت کریں، اس کے رسول ﷺ کی پیروی کریں، اور اپنی آخرت سنوارنے کی فکر کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 18-22 — احقاف

18أُولَٰئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ
یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) اُمتوں میں سے جو ان سے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ متحقق ہوگیا۔ بےشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے
19وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہوں گے ان کے مطابق سب کے درجے ہوں گے۔ غرض یہ ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے
20وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے
21۞ وَاذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُ بِالْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزرچکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے
22قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو۔ اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے ہم پر لے آؤ
احقافقرآن فہرست
35آیت
مکیRevelation
20آیت

ترجمہ — احقاف 20

سورہ احقاف آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے…

سورہ آیت 20/35 — احقاف الأحقاف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احقاف سنیں, احقاف ترجمہ, احقاف mp3, احقاف pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں