احقاف · 19/35
ترجمہ تلفظ — احقاف
وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ۝١٩
Wa likullin darajaatum mimmaa `amiloo wa liyuwaf fiyahum a`maalahum wa hum laa yuzlamoon
📖 اردو ترجمہ
اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہوں گے ان کے مطابق سب کے درجے ہوں گے۔ غرض یہ ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • دَرَجَاتٌ: درجے، مراتب، منزلیں۔
  • لِکُلٍّ: ہر ایک کے لیے (یعنی ہر گروہ کے لیے
  • لِیُوَفِّیَهُمْ: تاکہ وہ انہیں پورا پورا بدلہ دے۔
  • لَا یُظْلَمُونَ: ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا (نہ نیکیوں میں کمی، نہ گناہوں میں زیادتی

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عدلِ کامل اور حکمتِ الٰہی کا وہ نظام بیان فرمایا ہے جو قیامت کے دن نافذ ہوگا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہر ایک کے لیے — خواہ وہ نیک ہو یا بد — اس کے اعمال کے مطابق درجات اور مراتب مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ درجات یکساں نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص کے عمل کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ اہلِ جنت کے درجات بلند سے بلند تر ہوتے چلے جائیں گے، اور اہلِ دوزخ کے درجات نشیب کی طرف گہرے ہوتے جائیں گے۔

یہ درجات کسی خواہش یا سفارش کی بنا پر نہیں ملیں گے، بلکہ "مِمَّا عَمِلُوا" یعنی انہی اعمال کی وجہ سے ملیں گے جو انسان نے دنیا میں کیے تھے۔ نیکی کا بدلہ نیکی ہے، اور برائی کا بدلہ برائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا — نہ کسی کی نیکی میں کمی کی جائے گی، نہ کسی کی برائی میں اضافہ کیا جائے گا۔ یہ اللہ کا عدلِ مطلق ہے کہ وہ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا۔

یہ آیت مومن کے دل میں امید پیدا کرتی ہے کہ اس کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی ضائع نہیں ہوگی، اور گنہگار کو ڈراتی ہے کہ اس کی برائیاں بھی نظر انداز نہیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نظام اس لیے بنایا ہے تاکہ ہر شخص کو اس کے عمل کا مکمل بدلہ ملے، اور یہ اس کی رحمت اور عدل دونوں کا تقاضا ہے۔


دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمارا رب ہر عمل کا حساب رکھتا ہے، اور اس کا انصاف کامل ہے۔ اگر ہم نیکی کریں گے تو ہمارے درجات بلند ہوں گے، اور اگر برائی کریں گے تو ہمارے درجات پست ہوں گے۔ یہ کوئی اندھا نظام نہیں، بلکہ حکمتِ الٰہی پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادی دی ہے کہ ہم اپنے اعمال خود چنیں، لیکن نتیجہ بھی خود بھگتیں گے۔

آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اس حقیقت کے مطابق ڈھالیں کہ ہر عمل کا حساب ہوگا۔ نیکی کا راستہ اختیار کریں تاکہ ہمارے درجات جنت کی بلندیوں تک پہنچیں، اور برائی سے بچیں تاکہ ہم جہنم کی گہرائیوں سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں قرآن اور سنت دی ہے جو ہمیں سیدھا راستہ دکھاتی ہے — اس پر چل کر ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 17-21 — احقاف

17وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِن قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ
اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اُف اُف! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤں گا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کم بخت ایمان لا۔ خدا کا وعدہ تو سچا ہے۔ تو کہنے لگا یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
18أُولَٰئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ
یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) اُمتوں میں سے جو ان سے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ متحقق ہوگیا۔ بےشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے
19وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہوں گے ان کے مطابق سب کے درجے ہوں گے۔ غرض یہ ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے
20وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے (تو کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے۔ اور اس کی بدکرداری کرتے تھے
21۞ وَاذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُ بِالْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزرچکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے
احقافقرآن فہرست
35آیت
مکیRevelation
19آیت

ترجمہ — احقاف 19

سورہ احقاف آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہوں گے ان کے…

سورہ آیت 19/35 — احقاف الأحقاف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احقاف سنیں, احقاف ترجمہ, احقاف mp3, احقاف pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں