اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
كَفَرُوا: ایمان نہ لائے، اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا۔
كَذَّبُوا: جھٹلایا۔
آیَاتِنَا: ہماری نشانیاں، دلائل، معجزات اور نازل کردہ احکام۔
أَصْحَابُ الْجَحِيمِ: دوزخ کے رہنے والے، ہمیشہ اس میں رہنے والے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا انجام بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تعلیمات کو جھٹلایا اور اللہ کی نشانیوں کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی لوگ دوزخ کے مستحق ہیں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، جیسے کوئی ساتھی اپنے ساتھی کا ساتھ نہ چھوڑے، اسی طرح وہ دوزخ کی آگ کے ساتھی ہوں گے اور اس سے کبھی نکل نہ سکیں گے۔
یہ آیت بنی نضیر (یہودی قبیلے) کے بارے میں نازل ہوئی، لیکن اس کا حکم عام ہے اور تمام کفار پر صادق آتی ہے۔ جو لوگ حق کو دیکھ کر بھی اسے قبول نہیں کرتے، اور اللہ کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں، ان کا انجام یہی ہے۔
دعوتی پہلو:
اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی، جس میں ہر وہ چیز موجود ہے جو ہمیں جنت کی راہ دکھائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نشانیوں پر غور کریں، اس کی وحدانیت کو دل سے قبول کریں اور اپنے اعمال کو اس کی رضا کے مطابق بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے، ہدایت کا راستہ دکھایا ہے، اور رسول بھیجے ہیں۔ یہ سب اللہ کی بڑی رحمتیں ہیں۔ ہمیں ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور کفر و تکذیب سے بچنا چاہیے، تاکہ ہم اس عظیم انجام سے محفوظ رہیں جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائے اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
اے ایمان والوں! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہوں اور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
اور خدا نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔