مائدہ · 104/120
ترجمہ تلفظ — مائدہ
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ۝١٠٤
Wa izaa qeela lahum ta`aalaw ilaa maaa anzalallaahu wa ilar Rasooli qaaloo hasbunaa maa wajadnaa `alaihi aabaaa`anaa; awa law kaana aabaaa`uhum laa ya`lamoona shai`anw wa laa yahtadoon
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حَسْبُنَا: ہمارے لیے کافی ہے۔
  • مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا: وہ (طریقہ) جو ہم نے اپنے باپ دادا پر پایا۔
  • لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا: وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔
  • وَلَا يَهْتَدُونَ: اور نہ ہی ہدایت یافتہ تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اُن لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں جو اللہ کے حکموں کو چھوڑ کر اپنے آباء و اجداد کی تقلید پر اصرار کرتے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے، یعنی قرآنِ کریم کی طرف، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف، تاکہ تم حلال و حرام کو سمجھ سکو اور اپنی زندگی کو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلا سکو، تو وہ کہتے ہیں: "ہمارے لیے وہی کافی ہے جو ہم نے اپنے باپ دادا کو کرتے ہوئے پایا۔" یعنی ہم اپنے اسلاف کے طریقے پر قائم ہیں، ہمیں تمہاری باتوں کی ضرورت نہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کے اس رویے پر تعجب کا اظہار فرماتے ہوئے کہتا ہے: کیا وہ اپنے آباء کی تقلید اس وقت بھی کریں گے جب ان کے آباء کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور نہ ہی انہیں ہدایت حاصل تھی؟ یعنی اگر باپ دادا جہالت اور گمراہی پر تھے، تو کیا ان کی اندھی تقلید کرنا عقل و دانش کا تقاضا ہے؟ ہرگز نہیں! عقل مند انسان صرف اُسی کی پیروی کرتا ہے جو علم رکھتا ہو اور ہدایت یافتہ ہو، نہ کہ اُس کی جو جہالت اور گمراہی میں مبتلا ہو۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ حق کی کسوٹی آباء و اجداد کی تقلید نہیں ہے، بلکہ حق وہی ہے جو اللہ نے نازل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا۔ اگر ہمارے بزرگوں نے کوئی غلط راستہ اختیار کیا ہو تو ہمیں اس کی تقلید نہیں کرنی چاہیے، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ ہم اپنے معاملات میں قرآن و سنت کو ہی حتمی فیصلہ کرنے والا مانیں۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنے معاشرتی رسوم و رواج، روایات اور بزرگوں کی تقلید کو دین پر مقدم رکھتے ہیں، حالانکہ اللہ نے ہمیں علم اور بصیرت عطا کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ کے حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو سب سے آگے رکھیں، کیونکہ یہی نجات کا راستہ ہے۔ اللہ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 102-106 — مائدہ

102قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِّن قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ
اس طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہو گئے
103مَا جَعَلَ اللَّهُ مِن بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ ۙ وَلَٰكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا ہے اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افترا کرتے ہیں اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے
104وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)
105يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)
106يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ ۚ تَحْبِسُونَهُمَا مِن بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الْآثِمِينَ
مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے
مائدہقرآن فہرست
120آیت
مدنیRevelation
104آیت

ترجمہ — مائدہ 104

سورہ مائدہ آیت 104 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو…

سورہ آیت 104/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 102–106. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں