Maa ja`alal laahu mim baheeratinw wa laa saaa`ibatinw wa laa waseelatinw wa laa haaminw wa laakinnal lazeena kafaroo yaftaroona `alallaahil kazib; wa aksaruhum laa ya`qiloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا ہے اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افترا کرتے ہیں اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
خداوند درباره بَحيره و سائبه و وصيله و حامى حكمى نكرده است؛ ولى كافران بر خدا دروغ مىبندند و بيشترينشان بىخردند.
خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا ہے اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افترا کرتے ہیں اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَحِيرَة: وہ اونٹنی جس کے کان کاٹ دیے جاتے تھے جب وہ ایک خاص تعداد میں بچے جنم دیتی تھی۔
سَائِبَة: وہ اونٹنی جو کسی نذر کی وجہ سے چھوڑ دی جاتی تھی اور اس پر سواری یا دودھ حلال نہ سمجھا جاتا تھا۔
وَصِيلَة: وہ بکری جو ایک خاص حالت میں (نر اور مادہ کا ایک ساتھ جنم دینے پر) بتوں کے نام کر دی جاتی تھی۔
حَامٍ: وہ نر اونٹ جس کی پشت پر سواری حرام سمجھی جاتی تھی جب اس کی نسل سے ایک خاص تعداد میں بچے پیدا ہو جاتے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے ان تمام جانوروں کو حلال کیا ہے جو اس نے پیدا کیے ہیں، اور کسی کو حرام نہیں ٹھہرایا سوائے ان کے جو قرآن میں صراحتاً حرام کیے گئے ہیں۔ لیکن جاہلیت کے لوگوں نے اپنی طرف سے کچھ جانوروں کو مخصوص کر لیا تھا اور انہیں بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی۔ یہ سب ان کے خود ساختہ قاعدے تھے جنہیں انہوں نے اللہ کی طرف منسوب کر دیا، حالانکہ اللہ نے انہیں کبھی حرام نہیں کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان چیزوں کو حرام ٹھہرانے والے دراصل کافر ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی من گھڑت باتوں کو اللہ کا حکم بتاتے تھے۔ ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے، ورنہ وہ سمجھ جاتے کہ اللہ نے تو انہیں حلال کیا ہے اور یہ سب ان کی اپنی ایجاد ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دین میں کسی بھی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کسی چیز کو حرام ٹھہرا لے اور اسے اللہ کی طرف منسوب کرے۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنی روایات اور رسومات کو دین کا حصہ سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ان کا اللہ کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں قرآن و سنت کو معیار بنائیں اور کسی بھی خود ساختہ بات کو دین میں داخل نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے دین کو آسان بنایا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس آسانی کو قبول کریں اور اپنی طرف سے سختیاں پیدا نہ کریں۔
مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)
اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔