Wa minal lazeena qaalooo innaa nasaaraaa akhaznaa meesaaqahum fanasoo hazzam mimmaa zukkiroo bihee fa aghrainaa binahumul `adaawata walbaghdaaa`a ilaa yawmil Qiyaamah; wa sawfa yunabbi`uhumul laahu bimaa kaanoo yasna`oon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و از كسانى كه گفتند كه ما نصرانى هستيم پيمان گرفتيم. پس قسمتى از اندرزهايى را كه به آنها داده بوديم فراموش كردند و ما نيز ميان آنها تا روز قيامت كينه و دشمنى افكنديم. به زودى خدا آنان را از كارهايى كه مىكنند آگاه خواهد ساخت.
اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مِيثَاق: عہد و پیمان، مضبوط و مؤکد عہد۔
فَنَسُوا: انہوں نے ترک کر دیا، چھوڑ دیا (یہاں بھولنے کے معنی میں نہیں بلکہ ترک کرنے کے معنی میں ہے)۔
حَظًّا: نصیب، حصہ۔
فَأَغْرَيْنَا: ہم نے ڈال دیا، ہم نے ابھارا، ہم نے پیدا کر دیا۔
الْبَغْضَاءَ: سخت دشمنی، بغض و عداوت۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نصرانی ہیں، یعنی ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی وہی مضبوط عہد و پیمان لیا تھا جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا کہ وہ توحید پر قائم رہیں، اپنے رسولوں پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا اور اس نصیحت کا ایک بڑا حصہ چھوڑ دیا جو انہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے دین میں تحریف کی، حق کو چھوڑ دیا اور اپنی من گھڑت باتیں ایجاد کر لیں۔
چونکہ انہوں نے اللہ کے عہد کو توڑا اور حق سے منہ موڑا، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا کے طور پر ان کے مختلف فرقوں کے درمیان آپس میں عداوت اور بغض ڈال دیا۔ یہ عداوت اور دشمنی قیامت کے دن تک ان کے درمیان رہے گی۔ چنانچہ آج تک نصرانی فرقے آپس میں ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں، ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہیں اور ان کے درمیان شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ یہ ان کے عہد شکنی کا نتیجہ ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ انہیں ضرور بتائے گا جو کچھ وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں، یعنی قیامت کے دن ان کے تمام اعمال ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور انہیں ان کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ ان کے لیے سخت وعید اور ڈراوے کی بات ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کا عہد توڑنا بہت بڑا جرم ہے۔ جب کوئی قوم اللہ کے احکام کو چھوڑ دیتی ہے اور اپنے دین میں تحریف کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل و رسوا کرتا ہے اور ان کے درمیان پھوٹ ڈال دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو مضبوطی سے تھامیں، قرآن و سنت پر عمل کریں اور آپس میں اتحاد و اتفاق رکھیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات کو ختم کریں اور آپس میں محبت و بھائی چارگی کو فروغ دیں، تاکہ اللہ کی رحمت اور برکتیں ہم پر نازل ہوں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر عمل کا بدلہ دینے والا ہے، چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔ ہمیشہ نیکی اور تقویٰ کو اپنانا چاہیے اور اللہ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
اور خدا نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا
تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے
جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔