yaaa Ahlal kitaabi qad jaaa`akum Rasoolunaa yubaiyinu lakum kaseeram mimmmaa kuntum tukhfoona minal Kitaabi wa ya`foo `an kaseer; qad jaaa`akum minal laahi noorunw wa Kitaabum Mubeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى اهل كتاب، پيامبر ما نزد شما آمد تا بسيارى از كتاب خدا را كه پنهان مىداشتيد برايتان بيان كند و از بسيارى درگذرد، و از جانب خدا نورى و كتابى صريح و آشكار بر شما نازل شده است،
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُبَیِّنُ: واضح کرتا ہے، کھول کر بیان کرتا ہے۔
تُخْفُونَ: تم چھپاتے ہو۔
یَعْفُو: معاف کر دیتا ہے، درگزر کرتا ہے۔
نُورٌ: روشنی، ہدایت کا ذریعہ۔
کِتَابٌ مُبِینٌ: واضح اور روشن کتاب۔
تفسیر:
اے اہل کتاب! (یہود و نصاریٰ) تمہارے پاس ہمارا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ گیا ہے، جو تمہارے پاس موجود آسمانی کتابوں (تورات اور انجیل) کے ان بہت سے معاملات کو واضح کر رہا ہے جنہیں تم لوگوں سے چھپاتے تھے۔ تم نے اپنی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات، رجم (سنگسار) کی آیت اور دیگر احکام کو چھپا رکھا تھا، آپ ان میں سے بہت سی باتوں کو بیان فرما رہے ہیں۔ اور بہت سی ایسی چیزوں سے درگزر فرما رہے ہیں جن کا بیان کرنا تمہارے لیے رسوائی اور شرمندگی کا باعث ہوتا، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں معاف فرما دیا۔
پھر فرمایا: اے اہل کتاب! اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک نور (روشنی) آیا ہے، جو کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور ایک واضح کتاب (قرآن مجید) بھی آئی ہے۔ یہ قرآن ہر اس چیز کو واضح کرتا ہے جس کی انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں ضرورت ہے۔ یہ کتاب اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے والی ہے، اور جو شخص اسے مضبوطی سے تھام لے وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔
دعوتی پہلو:
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بہت بڑا احسان فرمایا کہ انہیں ایسا رسول اور ایسی کتاب عطا کی جو سچائی اور ہدایت کا مکمل ذریعہ ہے۔ یہ نور اور کتاب مبین ہر اس شخص کے لیے رحمت ہے جو اسے قبول کرے۔ آج بھی یہی قرآن اور سنت ہمارے لیے روشنی کا ذریعہ ہیں، جو ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں راہ دکھاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس نور کو اپنے دلوں میں جگہ دیں، اس کی تعلیمات پر عمل کریں اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا کی کامیابی اور آخرت کی نجات تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں یہ عظیم نعمت عطا کی ہے، ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس پر قائم رہنا چاہیے۔
تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے
جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے
جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔