ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُشْفِقِینَ: خوف کھانے والے، ڈرنے والے، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے۔
تفسیر:
جنت کی نعمتوں میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہوئے اہلِ جنت اپنے ماضی کو یاد کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں کے درمیان رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے۔ ہم اپنے رب کے عذاب سے خوفزدہ رہتے تھے، قیامت کے دن کی سختیوں اور اس کے حساب سے ڈرتے تھے۔ ہم صرف اسی کی عبادت کرتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے تھے، اور اسی سے دعا کرتے تھے کہ ہمیں جہنم کی آگ سے بچائے اور جنت کی نعمتوں تک پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعا قبول فرمائی، ہمیں ہدایت اور توفیق عطا کی، اور اپنے فضل و کرم سے ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا کر جنت کی نعمتوں سے نوازا۔
یہ گفتگو دراصل اہلِ جنت کی شکرگزاری کا اظہار ہے، جو وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات پر کر رہے ہیں۔ وہ بتا رہے ہیں کہ ان کی نجات کا سبب صرف اللہ کا فضل اور ان کا خوفِ الٰہی تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اس کے عذاب سے خوف کھانا ہی وہ چیز ہے جو انسان کو جنت تک پہنچاتی ہے۔ جس شخص کو اللہ کا خوف ہوتا ہے، وہ گناہوں سے بچتا ہے، نیکیوں پر عمل کرتا ہے، اور اپنے رب سے دعائیں مانگتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ڈرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں جنت کی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کریں، اپنے گھر والوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اللہ کو یاد کریں، اور اس سے ڈرتے رہیں تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو سکیں جنہیں اللہ تعالیٰ جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے، وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں قبول فرماتا ہے۔
📜 آیت 24-28 — طور
ترجمہ — طور 26
سورہ طور آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں…سورہ آیت 26/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








