ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَحْلَامُهُمْ: ان کی عقلیں، سمجھیں۔
- طَاغُونَ: حد سے بڑھنے والے، سرکش، ضدی۔
تفسیر آیت:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان مشرکینِ مکہ کے اس موقف پر تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں جو وہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ساحر کہتے، کبھی کاہن کہتے اور کبھی شاعر قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کیا ان کی عقلیں انہیں اس متناقض اور بے جوڑ بات کا حکم دیتی ہیں؟ یہ ایسی صفتیں ہیں جو ایک شخص میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ ایک شخص یا تو ساحر ہوتا ہے، یا کاہن، یا شاعر — یہ سب ایک ساتھ کسی ایک انسان میں جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ ان کی عقل کی رسوائی ہے کہ وہ ایسی بے بنیاد باتیں کرتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ خود ہی جواب دیتے ہیں: "بلکہ وہ قومِ طاغی ہیں" یعنی حقیقت یہ ہے کہ ان کی عقلیں خراب نہیں، بلکہ ان کے دل عناد اور سرکشی سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہ حق کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی ماننے سے انکار کر رہے ہیں، اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے طرح طرح کے بہانے تراش رہے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کو قبول کرنے میں اصل رکاوٹ عقل کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ دل کا تکبر اور ضد ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے مفادات، جاہ و منصب یا روایات کی خاطر حق کو جھٹلاتا ہے تو وہ طرح طرح کے بے جوڑ دلائل گھڑتا ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ عقلِ سلیم سے کام لے، اور جب حق واضح ہو جائے تو اسے فوراً قبول کر لے، چاہے اسے اپنی پسند کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ قرآنِ کریم بار بار ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم تعصب، ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر سچائی کو اپنائیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 30-34 — طور
ترجمہ — طور 32
سورہ طور آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں۔ بلکہ…سورہ آیت 32/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








