Wa ja`aloo lillaahi shurakaaa`al jinna wa khalaqa hum wa kharaqoo lahoo baneena wa banaatim bighairi `ilm Subhaanahoo wa Ta`aalaa `amma yasifoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
براى خدا شريكانى از جن قرار دادند و حال آنكه جن را خدا آفريده است. و بىهيچ دانشى، به دروغ دخترانى و پسرانى براى او تصور كردند. او منزه است و فراتر است از آنچه وصفش مىكنند.
اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
شُرَكَاءَ الْجِنَّ: جنوں کو شریک بنانا۔
خَرَقُوا: جھوٹ گھڑنا، افتراء کرنا۔
بِغَيْرِ عِلْمٍ: بغیر کسی علم اور دلیل کے۔
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ: وہ پاک ہے اور بلند ہے۔
تفسیر آیت:
یہ آیت ان مشرکین کے عقیدے کی تردید کرتی ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنوں کو شریک ٹھہرایا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ جن انہیں نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے وہ ان کی عبادت کرتے تھے۔ حالانکہ اللہ ہی نے ان جنوں کو پیدا کیا ہے، وہ خود مخلوق ہیں، خالق نہیں۔ جب اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے تو وہ عبادت کے لائق کیسے ہو سکتے ہیں؟ عبادت تو صرف اسی کی ہونی چاہیے جس نے سب کو پیدا کیا، جو خود کسی کا محتاج نہ ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے ایک اور جھوٹ کا ذکر کیا کہ انہوں نے اللہ کے لیے اولاد گھڑ لی — بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی۔ یہود نے عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہا، نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو، اور مشرکینِ عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہ سب باتیں بغیر کسی علم اور دلیل کے محض جھوٹ اور افتراء ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں، نہ اسے اولاد کی ضرورت ہے، نہ وہ کسی کے مشابہ ہے۔ وہ ہر اس وصف سے بلند ہے جو یہ جہالت کی بنا پر اس کے لیے گھڑتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں صرف وہی علم رکھنا چاہیے جو اس نے خود اپنی کتاب اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتایا ہے۔ جو شخص اپنی عقل یا خیال سے اللہ کے بارے میں کوئی بات کہتا ہے، وہ درحقیقت اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی توحید کو مضبوطی سے پکڑیں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں، اور اس کی ذات کے بارے میں ادب اور احترام کے ساتھ صرف وہی کہیں جو قرآن اور سنت میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا ہے، بس ہمیں اس پر چلنے کی ضرورت ہے۔ جو شخص توحید پر قائم رہے گا، اس کی زندگی میں برکتیں آئیں گی اور آخرت میں اسے کامیابی ملے گی۔
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں
اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے) ۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے
یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیداکرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔