انعام · 101/165
ترجمہ تلفظ — انعام
بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٌ وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٌۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٍۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ  ۝١٠١
Badee`us samaawaati wal ardi annnaa yakoonu lahoo waladunw wa lam takul lahoo saahibatunw wa khalaqa kulla shai`in `Aleem
📖 اردو ترجمہ
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے) ۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

لغوی معانی:

  • بَدِيعُ: پیدا کرنے والا، موجد، ایسا خالق جو بغیر کسی سابقہ نمونے کے تخلیق کرے۔
  • أَنَّىٰ: کیسے؟ کہاں سے؟ (استفہامِ انکاری ہے، یعنی یہ ممکن ہی نہیں)
  • صَاحِبَةٌ: بیوی، زوجہ، رفیقہ حیات۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنی ذاتِ اقدس کی عظمت اور کمال قدرت کا تعارف کراتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہی آسمانوں اور زمین کا موجد اور خالق ہے۔ اس نے انہیں اس طرح پیدا کیا کہ کوئی نمونہ، کوئی مثال، کوئی نقشہ پہلے سے موجود نہ تھا۔ وہ واحد خالق ہے جس نے عدم سے وجود بخشا، اور ہر چیز کو حکمت و تدبیر کے ساتھ پیدا کیا۔

پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس باطل عقیدے کا رد فرماتا ہے جو کہتے تھے کہ اللہ کے اولاد ہیں (جیسے عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کا بیٹا ہے، اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے)۔ اللہ فرماتا ہے: یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی اولاد ہو جبکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں؟ اولاد کا تعلق تو ازدواجی تعلق سے ہوتا ہے، اور اللہ تو اس سے پاک و منزہ ہے کہ اسے کسی ساتھی یا شریک کی ضرورت ہو۔ وہ ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، اس کی ذات کو کسی کی قربت یا رفاقت کی حاجت نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت کی دلیل بیان کرتا ہے کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ جب وہ خود ہر چیز کا خالق ہے، تو وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا بیٹا یا بیٹی کیسے بنا سکتا ہے؟ خالق اور مخلوق میں کبھی برابری نہیں ہو سکتی۔ اور وہ ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے، اس کے علم سے کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، نہ آسمانوں کی بلندیوں میں کوئی چیز اس سے مخفی ہے اور نہ زمین کی گہرائیوں میں۔

دعوتی پہلو:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور کمالِ قدرت کا ایسا واضح ثبوت بیان فرمایا ہے کہ عقلِ سلیم والا انسان بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کا محتاج ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس عظیم خالق کی عبادت میں اپنی زندگی گزاریں، اس کی توحید کو اپنے دلوں میں جگہ دیں، اور شرک کے ہر تصور سے اپنے آپ کو پاک رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم اس کی نشانیوں پر غور کریں، اور ایمان لائیں۔ جب ہم آسمان و زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اللہ کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے، اور جب ہم اپنے اندر جھانکتے ہیں تو اللہ کی قدرت کے بیشمار نمونے دیکھتے ہیں۔ یہی توحید ہماری نجات کا ذریعہ ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام لے کر آئے۔ اللہ ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے اور شرک کے ہر تصور سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 99-103 — انعام

99وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡءٍ فَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ خَضِرًا نُّخۡرِجُ مِنۡهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ ٱلنَّخۡلِ مِن طَلۡعِهَا قِنۡوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّٰتٍ مِّنۡ أَعۡنَابٍ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشۡتَبِهًا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٍۗ ٱنظُرُوٓاْ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَيَنۡعِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمۡ لَأٓيَٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُؤۡمِنُونَ 
اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں
100وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ ٱلۡجِنَّ وَخَلَقَهُمۡۖ وَخَرَقُواْ لَهُۥ بَنِينَ وَبَنَٰتِۭ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ 
اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے
101بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٌ وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٌۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٍۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ 
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے) ۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے
102ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٍ فَٱعۡبُدُوهُۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ وَكِيلٌ 
یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیداکرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے
103لَّا تُدۡرِكُهُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَهُوَ يُدۡرِكُ ٱلۡأَبۡصَٰرَۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلۡخَبِيرُ 
(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
101آیت

ترجمہ — انعام 101

سورہ آیت 101/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 99–103. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں