ترجمہ — Tafsir
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
لغوی معانی:
- بَدِيعُ: پیدا کرنے والا، موجد، ایسا خالق جو بغیر کسی سابقہ نمونے کے تخلیق کرے۔
- أَنَّىٰ: کیسے؟ کہاں سے؟ (استفہامِ انکاری ہے، یعنی یہ ممکن ہی نہیں)
- صَاحِبَةٌ: بیوی، زوجہ، رفیقہ حیات۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی ذاتِ اقدس کی عظمت اور کمال قدرت کا تعارف کراتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہی آسمانوں اور زمین کا موجد اور خالق ہے۔ اس نے انہیں اس طرح پیدا کیا کہ کوئی نمونہ، کوئی مثال، کوئی نقشہ پہلے سے موجود نہ تھا۔ وہ واحد خالق ہے جس نے عدم سے وجود بخشا، اور ہر چیز کو حکمت و تدبیر کے ساتھ پیدا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس باطل عقیدے کا رد فرماتا ہے جو کہتے تھے کہ اللہ کے اولاد ہیں (جیسے عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کا بیٹا ہے، اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے)۔ اللہ فرماتا ہے: یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی اولاد ہو جبکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں؟ اولاد کا تعلق تو ازدواجی تعلق سے ہوتا ہے، اور اللہ تو اس سے پاک و منزہ ہے کہ اسے کسی ساتھی یا شریک کی ضرورت ہو۔ وہ ہر لحاظ سے بے نیاز ہے، اس کی ذات کو کسی کی قربت یا رفاقت کی حاجت نہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت کی دلیل بیان کرتا ہے کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ جب وہ خود ہر چیز کا خالق ہے، تو وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا بیٹا یا بیٹی کیسے بنا سکتا ہے؟ خالق اور مخلوق میں کبھی برابری نہیں ہو سکتی۔ اور وہ ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے، اس کے علم سے کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، نہ آسمانوں کی بلندیوں میں کوئی چیز اس سے مخفی ہے اور نہ زمین کی گہرائیوں میں۔
دعوتی پہلو:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور کمالِ قدرت کا ایسا واضح ثبوت بیان فرمایا ہے کہ عقلِ سلیم والا انسان بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کا محتاج ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس عظیم خالق کی عبادت میں اپنی زندگی گزاریں، اس کی توحید کو اپنے دلوں میں جگہ دیں، اور شرک کے ہر تصور سے اپنے آپ کو پاک رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم اس کی نشانیوں پر غور کریں، اور ایمان لائیں۔ جب ہم آسمان و زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اللہ کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے، اور جب ہم اپنے اندر جھانکتے ہیں تو اللہ کی قدرت کے بیشمار نمونے دیکھتے ہیں۔ یہی توحید ہماری نجات کا ذریعہ ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام لے کر آئے۔ اللہ ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے اور شرک کے ہر تصور سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 99-103 — انعام
ترجمہ — انعام 101
سورہ آیت 101/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 99–103. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








