Wa nuqallibu af`idatahum wa absaarahum kamaa lam yu`minoo biheee awwala marratinw wa wa nazaruhum fee tughyaanihim ya`mahoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و همچنان كه در آغاز به آن ايمان نياوردند، اين بار نيز در دلها و ديدگانشان تصرف مىكنيم و آنان را سرگردان در طغيانشان رها مىسازيم.
اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نُقَلِّبُ: ہم پلٹتے ہیں، بدل دیتے ہیں۔
أَفْئِدَتَهُمْ: ان کے دلوں کو۔
أَبْصَارَهُمْ: ان کی آنکھوں کو۔
طُغْيَانِهِمْ: ان کی سرکشی اور حد سے تجاوز میں۔
يَعْمَهُونَ: حیران و سرگرداں ہو کر اندھوں کی طرح بھٹکتے رہتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جب یہ کافر اور منکرین حق نشانیاں دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں معجزہ دکھاؤ، فلاں آیت لاؤ، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیتے ہیں، یعنی ان کے دلوں سے حق کو سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے نشانیوں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرنے کی توفیق سلب کر لیتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے پہلی بار حق کو قبول نہیں کیا، جب قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ان کے سامنے آئے تو انہوں نے ضد اور عناد سے کام لیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کی سرکشی اور ضلالت میں چھوڑ دیتے ہیں، وہ حیران و پریشان ہو کر اندھوں کی طرح بھٹکتے رہتے ہیں، نہ انہیں سیدھا راستہ نظر آتا ہے اور نہ ہی وہ ہدایت پا سکتے ہیں۔
یہ اللہ کی سنت ہے کہ جو شخص حق کو پہچان کر بھی اسے قبول نہ کرے، ضد اور تکبر کی بنا پر اسے رد کر دے، تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اور وہ ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ اللہ کا عدل ہے، کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے حق کو ٹھکرایا تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں حق کو قبول کرنے میں کبھی دیر نہیں کرنی چاہیے۔ جب اللہ کی نشانیاں اور اس کے دین کی روشن تعلیمات ہمارے سامنے آئیں تو ہمیں فوراً ایمان لے آنا چاہیے، کیونکہ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ وہ ہمیں ہدایت کی توفیق دیتا ہے۔ ہمیں اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت سے روشن رکھنا چاہیے، تاکہ اللہ ہمارے دلوں اور آنکھوں کو حق دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یاد رکھیں، جو شخص حق کو قبول کرنے میں ضد اور تکبر سے کام لیتا ہے، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو سکتا ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور فرمائے۔ آمین۔
اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے
اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضروری ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو!) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں
اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں
اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔