انعام · 159/165
ترجمہ تلفظ — انعام
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ۝١٥٩
Innal lazeena farraqoo deenahum wa kaanoo shiya`allasta minhum fee shai`; innamaaa amruhum ilallaahi summma yunabbi`uhum bimaa kaanoo yaf`aloon
📖 اردو ترجمہ
جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَرَّقُوا دِينَهُمْ: اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا، یعنی بعض احکام مان لیے اور بعض چھوڑ دیے۔
  • شِيَعًا: مختلف فرقے اور گروہ بن گئے۔
  • لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ: آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، آپ ان سے بری ہیں۔
  • أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ: ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔
  • يُنَبِّئُهُم: انہیں خبر دے گا، ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا۔

تفسیر:

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں، یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے تمام لوگ جنہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو ماننے کے بجائے اس میں تحریف کی، بعض احکام کو قبول کیا اور بعض کو رد کر دیا، اور پھر آپس میں مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے محمد! آپ کا ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں، آپ ان سے بری ہیں اور وہ آپ سے بری ہیں۔ آپ کا کام صرف انہیں اللہ کا پیغام پہنچانا تھا، جو آپ نے پہنچا دیا۔ ان کا حساب کتاب اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کا مالک ہے اور وہی ان کی جزا و سزا کا فیصلہ کرے گا۔ پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، جو توبہ کر کے نیک ہو گیا اسے نیک بدلہ ملے گا، اور جو اپنی گمراہی پر قائم رہا اسے برا بدلہ دیا جائے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ دین اسلام ایک مکمل اور متحد دین ہے، اللہ نے اسے ایک ہی راستہ بنا کر بھیجا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کو متحد رکھیں، اس میں تفرقہ پیدا نہ کریں، اور نہ ہی ان لوگوں کی پیروی کریں جنہوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ آج بھی بہت سے لوگ دین کے کچھ حصے مانتے ہیں اور کچھ چھوڑ دیتے ہیں، یہ وہی روش ہے جس سے اللہ نے منع فرمایا۔ ہمیں چاہیے کہ پورے دین کو قبول کریں، اس پر عمل کریں، اور آپس میں اتحاد رکھیں، کیونکہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب دین وہی ہے جو اس کے رسول ﷺ لائے، اور وہ ایک ہی ہے۔ یاد رکھیں، ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے، اور قیامت کے دن اللہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، لہٰذا آج ہی اپنے دین کو مضبوطی سے تھامیں اور تفرقہ سے بچیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 157-161 — انعام

157أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ
یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے
158هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ۗ قُلِ انتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ
یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں
159إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا
160مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
161قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
159آیت

ترجمہ — انعام 159

سورہ انعام آیت 159 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے…

سورہ آیت 159/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 157–161. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں